Home / حکومت کابڑےبیرونی قرضےلینےکاپروگرام

حکومت کابڑےبیرونی قرضےلینےکاپروگرام

Pakistan to make massive borrowings

ویب ڈیسک – آنے والے سخت معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان رواں مالی سال میں بین الاقوامی قرض دہندگان سے تقریباً 5.5 ٹریلین روپے کا قرضہ لے گا۔ اس رقم سے پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائرکوبرقراررکھےگا،پچھلے قرضوں کی ادائیگی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی فنانسنگ کرے گا۔

سالانہ بجٹ 2022-23 میں، حکومت نے رواں مالی سال میں بین الاقوامی ذرائع سے صرف 3.17 ٹریلین روپے قرض لینے کا تخمینہ لگایا تھا۔ تاہم، بجٹ دستاویزات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، سعودی عرب اور سیف چائنا ڈپازٹ کی جانب سےمالی امدادظاہرنہیں کی گئی تھی۔ مذکورہ ذرائع سے فنڈنگ ​​کو شامل کرنے کے بعد متوقع بین الاقوامی قرضوں کا حجم اب 5.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔

یہ قرضہ حکومت کے پچھلے تخمینوں سے 74 فیصد زیادہ ہوگا۔ نظرثانی کے بعد، 2022-23 کے لیے متوقع 5.503 ٹریلین روپے کے بیرونی وسائل 2021-22 کے ابتدائی 2.7 ٹریلین روپے کے بجٹ سے 200 فیصد زیادہ ہیں۔

موجودہ حکومت، جو ڈالرکا بندوبست کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، کو اگلے مالی سال میں 41 بلین ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو 21 ارب ڈالر کا سابقہ ​​قرض ادا کرنا ہو گا اور آئندہ مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12 ارب ڈالر اور 8 ارب ڈالر مزید ہونے کا امکان ہے۔

اس لیے حکومت نے رواں مالی سال میں بڑے پیمانے پرقرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم، بڑی فنانسنگ کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی ضرورت ہوگی، جس سے نہ صرف پاکستان کے لیے تقریباً دو ارب ڈالر جاری ہوں گے بلکہ دیگر کثیر جہتی اور دو طرفہ ذرائع سے قرضے حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

یہ بھی چیک کریں

Mazda to close business in Russia

مزداکاروس میں کاروباربندکرنےکااعلان

ویب ڈیسک – جاپانی کار ساز کمپنی مزدا نے روس میں مکمل طورپرکاروباربندکرنےکا اعلان کیا …