Home / ٹریفک مسائل ۔۔ یہ توکوئی مسئلہ ہی نہیں

ٹریفک مسائل ۔۔ یہ توکوئی مسئلہ ہی نہیں

Traffic violations in Pakistan

ہمارےہاں حکومتیں یوں توعوامی خدمت کےبڑےبڑےدعوےکرتی نہیں تھکتیں ۔۔

کوئی سڑکیں اورپل بنانےکادعویداربنتاہےتوکسی کواس بات پرنازہےکہ اس نےصحت کےشعبےمیں انقلابی اقدامات کئے،

کوئی اس بات پرفخرکرتانہیں تھکتاکہ اس نےتعلیم کےمیدان میں مثالی فیصلےکئے۔۔

لیکن ان سب کاموں کےبیچ ایک ایساشعبہ ہےجسےشایدآج تک آنےوالی کسی بھی حکومت کی پزیرائی حاصل نہیں رہی۔

جی ۔۔ میں بات کررہاہوں ٹریفک کےمسائل کی ۔

یوں توہمارےہاں تقریباً سبھی شعبوں کابیڑہ غرق ہے لیکن ٹریفک کاشعبہ شایدوہ واحدجگہ ہےجسےدرست کرنےکی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔۔ آپ نےکبھی کسی حکمران کےمنہ سےنہیں سناہوگاکہ ۔۔ میں ٹریفک کےنظام کویورپ کےبرابرلاوں گا۔

ہم لاہورکوپیرس بنانےکےنعرےتولگاتےہیں لیکن لاہورکی ٹریفک ٹھیک کرنےکی بات کبھی نہیں کرتے۔ کیوں ۔۔۔؟

آپ دنیاکےترقی یافتہ اورمہذب ملکوں کی بات توچھوڑیں ۔۔ افریقہ کےکئی ملکوں میں ٹریفک کانظام پاکستان کےمقابلےمیں کئی گنابہترہے۔۔سیرالیون سےکام کرکےواپس آنےوالےایک جاننےوالےنےبتایاکہ وہاں ٹریفک کےمعاملےمیں لوگ اس قدرمہذب ہیں کہ سڑک پرہارن بجاناگناہ سمجھتےہیں ۔۔ اورہمارےہاں ہارن ایسےبجایاجاتاہےجیسےبڑےثواب کاکام ہو۔

دبئی میں پچھلےدنوں سڑک پرخطرناک کرتب کرنےکےجرم میں دبئی پولیس نےانتہائی بااثرگھرانوں سےتعلق رکھنےوالی لڑکیوں کےایک گینگ کونہ صرف گرفتارکیا،بلکہ ان کی قیمتی ہیوی بائیکس بھی ضبط کرلیں۔۔بھاری جرمانےاورلائسنس منسوخی کی سزااس کےعلاوہ ہے۔

دبئی پولیس حکام کےمطابق اس طرح سےسڑکوں پرخطرناک ڈرائیونگ کرنےوالےحادثات میں لوگوں کی اموات اورمعذوری کاباعث بنتےہیں،ان سےکوئی رعایت نہیں برتی جائےگی۔

ایک رپورٹ کےمطابق متحدہ عرب امارات میں پچھلےسال ٹریفک حادثات میں 381 افرادکی موت ہوئی جبکہ اس سےپچھلےبرس یہ تعداد256 تھی۔ یعنی اس قدرسخت قوانین کےباوجودوہاں ٹریفک حادثات کی تعدادمیں ہرسال اضافہ ہورہاہے۔

دوسری جانب ، عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کےمطابق 2020میں 28170پاکستانیوں نےٹریفک حادثات میں جان گنوادی۔ رپورٹ کےمطابق یہ تعدادملک بھرمیں ہونےوالی اموات کا1.93فیصدبنتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کاکہناہےکہ اموات کی یہ شرح دنیابھرمیں سب سےزیادہ ہے۔

یہ بات توہوگئی حادثات کی ۔۔ لیکن اب ہماری سڑکوں پرایک اورکام شروع ہوگیاہےجویقیناً حادثات جتناہی زیادہ سنگین بلکہ بطورمعاشرہ ہمارےلئےباعث شرم ہے۔

چندروزپہلےایک ویڈیونظرسےگزری تومیں سوچ میں پڑگیاکہ یارہم واقعی انسانوں میں رہ رہےہیں یاہوس کےمارےدرندوں کےدرمیان؟
ویڈیومیں کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پرہیلمٹ پہنےایک نوجوان موٹرسائیکل سوارکودیکھاجوطالبات کی ایک وین کےساتھ ساتھ موٹرسائیکل دوڑاتےہوئےانتہائی فحش حرکات کررہاتھا۔ یہ واقعہ کوئی رات کےاندھیرےمیں نہیں بلکہ دن دہاڑےپیش آیااورحیرت میں مبتلاکرنےوالی بات تویہ ہےکہ اس نوجوان کوکسی نےنہ دیکھانہ روکنےکی کوشش کی۔ وین میں بیٹھی طالبات نےیہ ویڈیوبناکرسوشل میڈیاپراپ لوڈکی تومعاملہ سامنےآیا۔

اس واقعےسےپہلےاس سےبھی زیادہ خوفناک واقعہ شہرکراچی ہی میں پیش آیاجب ایک نوجوان نےبھرےمحلےمیں اپنی نیکراتارکرراہ چلتی خاتون سےدست درازی کی کوشش کی لیکن خاتون کی جانب سےپرزورمزاحمت پریہ درندہ فرارہوگیا۔

ایسےاوراس جیسےاوربھی واقعات ہیں جن کایہاں حوالہ دیاجاسکتاہےلیکن سوچنےکی بات ہےکہ اس قسم کےواقعات ہمارےمعاشرےمیں کیوں بڑھتےجارہےہیں؟ ڈاکٹرزایسےلوگوں کونفسیاتی اورذہنی مریض قراردیکرپتانہیں کیاکیاکچھ تجویزکرتےہیں لیکن میں کہتاہوں کہ آپ سب چھوڑیں صرف ٹریفک قوانین پرسوفیصدعملدرآمدکردیں توسڑکوں پرہونےوالےٹریفک اوراخلاقی حادثات دونوں کواسی فیصدتک کم کیاجاسکتاہے۔

آپ سن کرحیران ہونگےکہ سڑکوں پرہراسانی کےواقعات صرف خواتین ہی نہیں مردوں کےساتھ بھی ہورہےہیں اورایساکرنےوالوں میں زیادہ تروہ نوجوان ملوث ہیں جنہیں پتاہےکہ وہ جوچاہےکریں ، کون ساکسی نےپوچھناہےیاہم نےپکڑےجاناہے؟

لیکن اگرہمیں پتاہوکہ بغیرلائسنس یانمبرپلیٹ کےموٹرسائیکل چلاوں گایاخطرناک ڈرائیونگ کروں گاتوکہیں نہ کہیں پکڑاضرورجاوں گا ۔۔ ایسی صورت میں قانون توڑنےسےپہلےہزاربارسوچوں گا۔ مثال کےطورپرمجھےپتاہوکہ قانون کی خلاف ورزی پرمیری گاڑی یاموٹرسائیکل ضبط ہوسکتی ہےتومیں کبھی ایساسوچوں گابھی نہیں ، کرناتودورکی بات۔

لیکن ہمارےہاں ٹریفک قوانین پرعملدرآمدکروائےگاکون ۔۔ کیونکہ حکمرانوں کےنزدیک تویہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at zaheer.ahmad.lhr@gmail.com

یہ بھی چیک کریں

negative use of mobile phone

موبائل فون استعمال کےخوفناک سائیڈافیکٹس

میں جب بھی موجودہ دورکےانسان اورموبائل فون میں تعلق کوسمجھنےکی کوشش کرتاہوں تولگتاہےکہ جیسےہم سب …