Tuesday, 14 July 2026
شایدوہ دن اب زیادہ دورنہیں جب ہمارےجسم توگوشت پوست کےہی رہیں گےاورہم دکھنےمیں بھی انسان ہی لگیں گے،لیکن ہمارےروئیےبالکل مشینی ہوجائیں گے۔
گیجٹس کی حدسےزیادہ مداخلت انسانوں اوران کےروئیوں کوبدل رہی ہے، آپ پانی میں کوئی رنگ ڈالیں توپانی اپنی شکل بدل لیتاہے۔۔ بالکل ویسےہی موبائل فون اوردیگرالیکٹرانک گیجٹس ہمارےاندرگھل مل کرہمارےجینےکارنگ ڈھنگ بدل رہےہیں ۔۔
آپ نےاکثردیکھاہوگاکہ لوگ کھانےکی ٹیبل پرایک ہاتھ سےکھاناکھانےاوردوسرےہاتھ سےسکرولنگ میں مصروف ہوتےہیں ۔اورتواور،موبائل فون سےہماراعشق اب واش روم تک پہنچ چکاہے۔لوگ کموڈپربیٹھےبیٹھےاپنےگھریلواوردفتری مسائل سلجھارہےہوتےہیں ۔۔
ان گیجٹس نےہمیں اس قدربدل دیاہےکہ ہم اپنوں کےساتھ ہوتےہوئےبھی ان کےساتھ نہیں ہوتے ۔۔آپ نےاکثردیکھاہوگاکہ گاڑی میں میاں بیوی بیٹھےہیں اوردونوں ایک دوسرےکےساتھ گپ شپ لگانےکی بجائےموبائل فون سےچپکےہوتےہیں ۔۔
اس طرح اگربچےبھی ساتھ ہوں تووہ بھی اپنےموبائل فون یاٹیبلٹ پرکوئی گیم کھیلنےیاسوشل میڈیادیکھنےمیں مصروف ہوتےہیں ۔اسی طرح اگرآپ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکریں توزیادہ ترلوگوں کی نظریں اپنےموبائل فون پرہی لگی ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیاپرکوئی صاحب بتارہےتھےکہ پاکستان میں لوگوں کاایوریج سکرین ٹائم 8گھنٹےبنتاہے۔رات کوموبائل فون دیکھتےدیکھتےسوتےہیں اورصبح جاگتےہی سب سےپہلےموبائل فون کادیدارکرتےہیں ۔۔
موبائل فون کےساتھ حدسےزیادہ قربت ہمیں انسانوں سےدورکرتی جارہی ہے، علم سےدورکرتی جارہی ہے۔ فیس بک ایک صاحب بتارہےتھےکہ پاکستان میں کتابیں شائع ہونےکی شرح خطےکےدیگرملکوں کےمقابلےمیں کہیں کم ہےاورہرسال یہ مزیدکم ہوتی جارہی ہے۔ ظاہرہےجس ملک میں لوگ علم ودانش کی بات پڑھنےکی بجائےٹک ٹاک یادیگرسوشل پلیٹ فارمزپربیہودہ سی ویڈیودیکھنازیادہ پسندکریں وہاں کتابوں کایتیم وبےآسراہوجاناکوئی حیرانی کی بات نہیں۔
آنےوالی تباہی کووقت سےپہلےبھانپتےہوئےبہت سےمغربی ملکوں نےبچوں کےسوشل میڈیااستعمال پرپابندی لگادی ہےاوردیگراس پرغورکررہےہیں ۔ لیکن ہمارےہاں دوردورتک اس کاکوئی امکان نہیں لیکن غلطی سےاگرایساہوبھی گیاتودیگرقوانین کی طرح اس پابندی کوبھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاجائےگا۔
رہی سہی کسراےآئی نےپوری کردی ہے ۔ اےآئی سےبنی ایک ویڈیودیکھ رہاتھا، جس میں بمشکل ایک سال کی کیوٹ سی بچی اپنےباپ سےکہتی ہے، ڈیڈی ، جارج کسڈمیں ان کلاس روم ۔۔ باپ کہتاہے: وائےڈڈیوالاو ہم؟۔۔ بچی شرماتےہوئےجواب دیتی ہے۔۔ ہی ازکیوٹ ۔۔ باپ کھلکھلاکرہنس پڑتاہے ۔۔
لیکن یہ اےآئی سےبنی ویڈیوتھی ۔۔ سوچیں جب سچ میں ایساہونےلگےگاتوہم اپنےبچوں کوکہاں لےجاکرچھپائیں گے؟ ٹیکنالوجی کااستعمال برانہیں لیکن اسےاپنی ضرورت کی ایک چیزسمجھیں، اس کےغلام نہ بنیں ۔ میں آپ کوایک لٹمس ٹیسٹ بتاتاہوں ، اس ٹیسٹ میں اگرآپ پاس ہوگئےتوآپ اورآپ کی فیملی کی ذہنی حالت نارمل ہے، وگرنہ آپ کوکچھ سوچناہوگا ۔ ٹیسٹ یہ ہےکہ چھٹی والےدن جب سب افرادگھرپرہوں توایک ساتھ سب اپنےموبائل فون بندکردیں اورپورادن فون بندرکھیں ۔۔۔ یہ ایک دن آپ لوگوں نےنارمل طریقےسےگزارلیاتوسمجھ لیں کہ آپ کی ذہنی حالت ٹھیک ہے ۔۔ ایسانہیں ہوتاتوپھرنہ چاہتےہوئےبھی یہ کہناپڑےگاکہ آپ کوموبائل فون کی بیماری لگ چکی ہے ۔۔ اوربیماری کوئی بھی ہو، اس کیلئےعلاج ضروری ہوتاہے۔ کیونکہ اس کےبغیربیماری جان نہیں چھوڑتی ۔