News Makers

عسکری قیادت :-ملکی سیاسی معاملات سےکوئی لینادینانہیں ، عسکری قیادت
عسکری قیادت :-عسکری قیادت نےہمیشہ خودکوسیاسی معاملات سےدوررکھنےپرزوردیا
عسکری قیادت :-الیکشن ریفارمز ، نیب و سیاسی معاملات سےکوئی لینادینانہیں ، عسکری قیادت
عسکری قیادت :-گزشتہ روزشیخ رشیدنےپارلیمانی لیڈرزکی عسکری قیادت سےملاقات کی تصدیق کی تھی
عسکری قیادت :-الیکشن ریفارمز، نیب و سیاسی معاملات سےمتعلق تمام کام سیاسی قیادت نےکرنےہیں،عسکری قیادت
عسکری قیادت :-ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سےبراہ راست یاباالواسطہ تعلق نہیں ، عسکری قیادت

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
303089
  • اموات 6393
  • سندھ 132591
  • پنجاب 97946
  • بلوچستان 13690
  • خیبرپختونخوا 37140
  • اسلام آباد 15984
  • گلگت بلتستان 3297
  • آزاد کشمیر 2441

 

محترم چیف جسٹس صاحب : مریم نوازکامنصف اعلیٰ کےنام کھلاخط

محترم چیف جسٹس صاحب : مریم نوازکامنصف اعلیٰ کےنام کھلاخط
اپ لوڈ :- منگل 15 ستمبر 2020
ٹوٹل ریڈز :- 95

ویب ڈیسک ۔۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کےخلاف اسلام آبادہائیکورٹ کےفیصلےپرمریم نوازنےسخت بلکہ انتہائی سخت غم وغصےکااظہارکیاہے۔
 
 سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنےردعمل کااظہارکرتےہوئےمریم نوازکاکہناتھاکہ نوازشریف کو گرفتارکرکے پیش کرنےکا حکم اُسی مقدے میں ہے جس میں جج ارشد ملک نے نوازشریف کی بےگناہی کےباوجودبلیک میلنگ کےذریعےزبردستی فیصلہ دلوانے کا واضح اعتراف کیا۔
 
مریم نوازکاکہناتھا: "جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگران کا فیصلہ آج بھی جوں کا توں ہے، جج ارشد ملک کو گھربھیج دیاگیا مگر یہ نہیں پوچھا گیاکہ  سزا کس کے کہنے پر دی؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا"۔
 
اپنےجذباتی ردعمل میں مریم نوازنےمزید کہا کہ مقدمہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ جج کے اعترافِ جُرم کے بعد سزا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر سزا ہی قائم نہ رہتی ہو تو واپسی کیسی، گرفتاری کیوں؟
 
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو جیل کی کال کوٹھری میں جانے کے لیے اپنی رفیقِ حیات کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر اور اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹنے وطن واپس آ گیا ہو اور قانون کے آگے پیش ہو گیا ہو، ایسے ہوتے ہیں مفرور اور اشتہاری؟
 
انہوں نےچیف جسٹس سپریم کورٹ کومخاطب کرتےہوئے لکھا :
 
محترم چیف جسٹس صاحب ، یہ تکلیف دہ سفرکب تمام ہوگا؟ نظام انصاف کواپنےمقام تک پہنچنےکیلئےکتنےبےگناہ قومی رہنماوں اورآئین وقانون اورانصاف پرچلنےوالےمعززججوں کی قربانی چاہیےہوگی ؟
 
 معززچیف جسٹس صاحب ، نوازشریف نےپہلےبھی اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کرعدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی تھی اورآج بھی جب عدلیہ کودباوکاسامناہےتوہم پیچھےنہیں ہٹیں گے،عدلیہ کوجوبھی دباومیں لانےکی کوشش کرےگا،ہم ہرقیمت پراس کاراستہ روکیں گےانشااللہ۔ 
 
مجھےبخوبی اندازہ ہےکہ سیاستدانوں کی طرح معززجج صاحبان بھی دباومیں ہیں ۔ ان کےفیصلےکہہ رہےہیں کہ وہ دباومیں ہیں۔ مگرکیامعززجج حضرات کواس قسم کےعدلیہ دشمن واروں کےسامنےدیوارنہیں بن جاناچاہیے۔
 
 اگرمعززجج صاحبان نےآج دباوکےخلاف سٹینڈ نہ لیاتویہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیزاورجسٹس قاضی فائزعیسیٰ تک نہیں رکےگابلکہ ہروہ جج جوآئین اورقانون پرچلےگااس ظلم وانتقام کی زدمیں آئےگا۔ 

 

ٹیگز

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.