Home / آلوسے2ارب ڈالرکمانےکاسنہری موقع

آلوسے2ارب ڈالرکمانےکاسنہری موقع

Pakistani potato export to China

ویب ڈیسک ۔۔ چین ہمیشہ سےپاکستان کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کرداراداکرتاآرہاہے۔ اسی حوالےسےایک حوصلہ افزاخبریہ آئی ہےکہ پاکستان چین کوآلوکی برآمدکےذریعےتقریباً2ارب ڈالرکماسکتاہےکیونکہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کےتحت مقامی برآمدکنندگان کوسستےداموں کنٹینرزدستیاب ہیں۔

ڈان سےبات کرتےہوئےیہ بات آلو کے کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن (پی جی اے) پاکستان کے صدر میاں محمد صدیق اور نائب صدر چوہدری مقصود احمد جٹ کاکہناتھا کہ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالےسےحکومت کو تجویز بھیجنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد کےپاس پچھلےڈیڑھ سال سےان سےملاقات کاوقت ہی نہیں۔

کسان رہنماءوں کاکہناتھا کہ آلو کی برآمد کے لیے پانچ سالہ پالیسی جناب رزاق داودکی زیرصدارت ہونےوالےایک ویبنار میں بنائی گئی تھی لیکن اس پالیسی پرعملدرآمدنہیں ہوا۔ پانچ رکنی کمیٹی جس نےیہ پالیسی بنائی اس کادوبارہ کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا اور آلو کی کٹائی کا موجودہ سیزن بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

کاشتکاروں نےدعویٰ کیا کہ اس سال آلو کی پیداوارتقریباً 6 سے7 ملین ٹن فاضل ہے لیکن پھر بھی یہ چینی کی سالانہ کھپت کا محض چھ فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کو فروری سے مئی تک ٹیبل پوٹیٹو کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب ملک میں 105-110 کلو بوری کا ریٹ 1000 سے 1300 روپے تک گر گیا اور اس کے علاوہ کاشتکاروں کو کھیت سے منڈی تک اوسطاً 500 روپے فی بوری کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ فصل کی کٹائی کے سیزن کے آغاز پر اوکاڑہ اور دیپالپور کی فروٹ اور سبزی منڈیوں میں قیمت 3000 روپے فی بوری تھی۔ ضلع اوکاڑہ آلو کی کل قومی پیداوار میں 22 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔

دونوں کاشتکاررہنماوں نے بتایا کہ نجی شعبے نے اپنے طور پر 230,000 ٹن آلو برآمد کیا تھا لیکن یوکرین کے بحران کے بعد برآمد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم عراق پاکستان سے آلو خریدنے جا رہا ہے اور روس آلو درآمد کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

Auto financing drops in Pakistan

پاکستان میں کارفنانسنگ ہچکولےکھانےلگی

ویب ڈیسک ۔۔ گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں اوربلند شرح سود کی وجہ سے، آٹو فنانسنگ …