Tuesday, 28 April 2026 | Web Desk
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نےتیل پیدا کرنےوالےبڑے ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سےاچانک علیحدگی کااعلان کرکےدنیاکوحیران کردیا۔ اماراتی خبرایجنسی کےمطابق یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سےنافذ العمل ہوگا۔
خبر ایجنسی کے مطابق یواےای حکام کا کہنا ہےاس فیصلےسے متحدہ عرب امارات تیل کی فروخت کی پالیسی میں خود مختاری حاصل کرےگا۔
خام تیل کی عالمی منڈی کے حوالے سے معروف امریکی نیوز ویب سائٹ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق اوپیک کے تیسرے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی جانب سے تنظیم سے علیحدگی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی عدم استحکام کاشکارہے۔ایران جنگ کےبعدسےآبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے، جب کہ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کاہندسہ عبورکرچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو اے ای حکومت کایہ فیصلہ اچانک یاجلدبازی میں نہیں کیاگیابلکہ کافی عرصے سے اس پرکام جاری تھااورممکنہ طورپراس کی وجہ پیداوار کی حد کے معاملے پرسعودی عرب کےساتھ بڑھتےاختلافات تھے۔
آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق اوپیک پلس معاہدےکے تحت امارات کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود تھی، جب کہ اس کی اصل صلاحیت 40 لاکھ بیرل یومیہ سےزیادہ ہےاورامارات 2027 تک پیداوار50 لاکھ بیرل یومیہ تک لےجانےکاپروگرام بنارہاہے۔
تیل کی منڈی پریواےای کےفیصلےکااثر؟
ماہرین کےمطابق قلیل مدت میں اس کااثراتنا بڑانہیں ہوگاکیونکہ آبنائےہرمزکے بحران کی وجہ سے فی الحال بہت سی پیداوار ویسے ہی رکی ہوئی ہے اور امارات جتنا تیل نکال نکالےگا،اتنا برآمد نہیں کر سکتا، لیکن طویل مدت میں اس کے اثرات کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
خیال رہےکہ 1960 میں عمل میں آنےوالی تنظیم اوپیک کےاہم رکن ملکوں میں سعودی عرب، ایران، عراق اور کویت شامل ہیں۔
اوپیک پلس کا قیام 2016 میں اس وقت ہواجب اوپیک اور نان اوپیک ممالک میں اتحاد ہوا، اس میں روس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ اوپیک اور اوپیک پلس تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں اورایک اندازے کے مطابق یہ دنیاکی تقریباً 40 سے 50 فیصد تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یادرہےقطر، ایکواڈور، انڈونیشیا اورانگولا بھی اوپیک سے نکل چکے ہیں لیکن امارات جیسے بڑے اور پرانے رکن کا الگ ہونا اہمیت رکھتا ہے۔