Thursday, 30 April 2026 | Web Desk
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ’مختصر اور طاقتور‘حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا، ان حملوں کامقصدایران کومذاکرات کی میزپرلانااوراپنی شرائط ماننےکیلئےدباوڈالناہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے یہ خبرذرائع کےحوالےسےدی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائےجانےکاامکان ہےجس کے بعد امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔
ویب سائٹ کاکہنا ہے ٹرمپ نے ایران کی اس تجویزکو مسترد کر دیا جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنےاورجوہری مذاکرات بعد میں کرنے کی بات کی گئی تھی۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سیاسی امور کے نائب محمد اکبرزادہ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سےکسی بھی نئی حملے کی صورت میں ایرانی بحریہ اپنی ’حیران کن حکمت عملی‘استعمال کرے گی۔
ایران کی نئی تجاویز، ٹرمپ غیرمطمئین
ایران کے شہر میناب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی بھی جارحیت کے جواب میں بحریہ اسمارٹ ٹارگٹنگ سمیت اپنی نئی صلاحیتیں استعمال کرے گی اور امریکا کے بڑے جہازوں کو تباہ کردے گی۔