Monday, 27 April 2026 | Web Desk
وائٹ ہاؤس نمائندگان کےاعزازمیں ڈنرکی تقریب میں فائرنگ کرنے والے ملزم نےحملے سے 10 منٹ پہلےاہلخانہ کوایک پیغام بھیجا، جس کی تفصیلات منظرعام پرآگئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم کول ٹوماس ایلن نے ہفتے کی رات فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلخانہ کو ایک پیغام ارسال کیا، نیویارک پوسٹ کے مطابق اپنےپیغام میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
اہلخانہ کوپیغام میں کول ٹوماس ایلن نے گھروالوں سےاپنے اقدام کی معافی مانگی تاہم اس نے ٹرمپ کے عہدیداروں پر غصے کا بھی اظہار کیا اورکہا اسے ایک ضروری کام ہے جو وہ کرکے ہی لوٹے گا۔
ملزم نے پولیس کو اپنےابتدائی بیان میں سکیورٹی پر سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ہلٹن میں سکیورٹی انتظامات انتہائی ناقص ہیں، اگر کوئی ایرانی ایجنٹ ہوتا تو اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار اندر لاسکتا تھا۔
کول ٹوماس ایلن کے مطابق سکیورٹی زیادہ تر باہر مظاہرین اور آنے والوں پر مرکوز تھی، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کوئی ایک دن پہلے آ کر ٹھہر جائے تو کیا ہوگا، یہ نااہلی حیران کن ہے، اگر میں امریکی شہری کے بجائے ایرانی ایجنٹ ہوتا تو میں یہاں ’ما ڈیوس‘ (Ma Deuce)جیسا بھاری ہتھیار بھی لے آتا تو کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوتی۔
پاکستان کادورہ کامیاب رہا: عباس عراقچی
’ما ڈیوس‘ کیا ہے؟
M2 براؤننگ 0.50 کیلیبر کی بھاری مشین گن ہے جسے عرفِ عام میں ’ما ڈیوس‘ کہا جاتا ہے، اسے امریکی فوج کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک استعمال ہونے والا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق کول ٹوماس ایلن نے کیپ ٹیکٹیکل فائر آرم سے 2 ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن خریدی تھی جو اس نے اپنے والدین کے گھر میں رکھیں جب کہ وہ باقاعدگی سے شوٹنگ رینج میں ہتھیارچلانےکی مشق بھی کرتا۔