Saturday, 27 June 2026 | Web Desk
سوئٹزرلینڈکےشہربرگن اسٹاک میں ہوئی کامیاب بات چیت کےبعدامریکانےایک بارپھرایران پرحملہ کردیا۔ امریکی سینٹ کام نےحملےکی تصدیق کرتےہوئےکہاہےکہ ایران کےخلاف فضائی حملےکئےگئےہیں۔
سینیٹ کام کےمطابق، امریکی فوج کافضائی حملہ ایران کی جانب سےآبنائےہرمزمیں ایک کمرشل جہاز پرحملے کاجواب ہے۔ سینٹکام کےبیان کےمطابق 25 جون کو ایران نے کمرشل جہاز پرڈرون سے حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس پرحملےکئے۔
سینٹکام نے واضح کیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی اور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی مکمل پابندی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی فوج خطےمیں موجودرہے گی۔
ایرانی میڈیاکی رپورٹ سےبھی حملےکی تصدیق ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرا ہے۔ اس سے پہلے امریکی ٹرمپ نے ممکنہ ردعمل کے سوال پر صحافیوں کو جواب دیا تھاکہ آپ کو خود پتہ چل جائے گا۔