Sunday, 27 September 2026 | Web Desk
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ غلط استعمال اور عالمی سلامتی کو لاحق خطرات پر ٹیکنالوجی کی دنیا کی اہم شخصیات اپنےخدشات کااظہارکررہی ہیں۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے بھی اس حوالےسےآوازاٹھائی ہے۔ بل گیٹس نےخبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگر غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو اس کے سنگین نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور دیگرماہرین بھی اے آئی کی رفتار، نگرانی اور حفاظتی اقدامات کےحوالے سے تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔
بل گیٹس نے حالیہ گفتگو میں کہا کہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سےحفاظتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ حکومتوں اور قانون سازوں کو بھی اے آئی کی ترقی، حفاظتی اقدامات اورسرویلنس میں شامل ہونا چاہیے۔ بل گیٹس کے مطابق اے آئی ایسی صلاحیتیں پیدا کر رہی ہے جنہیں مجرمانہ عناصر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے اپنے حالیہ مضمون میں واضح کیا کہ اے آئی پہلے سے موجود خطرناک معلومات تک رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی صلاحیت بھی بڑھا سکتی ہے جو سائبر حملوں، دھوکا دہی، جعلی معلومات، نگرانی یا حیاتیاتی خطرات کے لیے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی اے آئی نظام کسی سافٹ ویئر کی خامی تلاش کرکے اسے دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور اسی صلاحیت کو کوئی حملہ آور اسی خامی سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
سیم آلٹمین کا بھی حفاظتی اقدامات پر زور
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے بھی حالیہ دنوں میں جدید اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آلٹمین کے مطابق نئی نسل کے ماڈلز کی صلاحیتیں اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ کمپنیوں کو اے آئی کی ترقی کی رفتار اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
آلٹمین نے کہاکہ آنے والے ماڈلز کی صلاحیتیں سب کے لیے سنجیدہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے والی ہیں اور اے آئی کی ترقی اب ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں کمپنیوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حفاظتی نظام بھی اسی رفتار سے بہتر ہوں۔
ستمبر 2026 میں اوپن اے آئی نےجدید اورزیادہ طاقتوراےآئی نظاموں کےلیےعالمی سطح پرمشترکہ تکنیکی معیارات، واقعات کی رپورٹنگ اوربین الاقوامی تعاون کی ضرورت پرزوردیا۔ کمپنی کا کہنا ہےجدید اے آئی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات بھی آگے بڑھنے چاہئیں۔
ڈاریو اموڈی: اے آئی کی رفتار کچھ کم کرنا ہوگی
Anthropicکے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں ماہ اے آئی کی ترقی کی رفتار میں کمی کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید اے آئی کی صلاحیتیں حفاظتی اقدامات سے زیادہ تیزی سے بڑھتی رہیں تو ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
اموڈی نے اے آئی کمپنیوں کےلیےتھرڈپارٹی حفاظتی جائزے، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کےدرمیان مشترکہ حفاظتی معیارات اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل ایک فریم ورک تجویز کیا۔ ان کے مطابق مقصد اے آئی کی ترقی روکنا نہیں بلکہ اس رفتار کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ بھی خطرات سے خبردار
مصنوعی ذہانت کے شعبے کے معروف محقق اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں۔ جولائی 2026 میں امریکی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے ہنٹن نے اے آئی سے منسلک بڑے پیمانے پر روزگار کے خاتمے، سیاسی اثراندازی اور مستقبل میں انتہائی طاقتور مشینوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا ذکر کیا۔
یوشوا بینجیو: خودمختار اے آئی ایجنٹس کے رویے پر تشویش
اے آئی کے معروف محقق یوشوا بینجیو نے بھی ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے جدید اے آئی ایجنٹس کے بعض ایسے واقعات کا حوالہ دیا جن میں ان کے بقول سسٹمز نے انسانی ہدایات کے خلاف خطرناک طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔
بینجیوکےمطابق بعض اے آئی ایجنٹس نے نگرانی سے بچنے، اپنے کام کے دوران دھوکا دینے اور سائبر حملوں جیسے اقدامات کی کوشش کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں اور عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرین میں تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟
اے آئی کے خطرات صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان تک محدود نہیں رہے۔ 2026 میں ایم آئی ٹی اور یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ سے وابستہ محققین کی ایک تحقیق میں 37 ممالک کے 272 اے آئی ماہرین سے مختلف خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے خطرناک اے آئی صلاحیتوں، اے آئی سے چلنے والے ہتھیاروں اور سائبر حملوں، طاقت کے ارتکاز اور انتہائی پیچیدہ جعلی معلومات کو اہم خطرات میں شمار کیا۔
اسی طرح حالیہ بین الاقوامی بحث میں ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال سائبر حملوں، نگرانی، فراڈ، حیاتیاتی خطرات اور خودکار ہتھیاروں کے شعبوں میں نقصان دہ افراد کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ انتہائی سنگین یا انسانی بقا کو لاحق خطرات کب اور کس حد تک حقیقت بن سکتے ہیں۔
یوں بل گیٹس، سیم آلٹمین، ڈاریو اموڈی، جیفری ہنٹن اور یوشوا بینجیو سمیت ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات کی حالیہ گفتگو میں ایک مشترک نکتہ نمایاں ہوتا ہے: اے آئی کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اس لیے اس کے ساتھ حفاظتی نظام، نگرانی، ذمہ دارانہ استعمال اور بین الاقوامی تعاون کو بھی اسی رفتار سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔