Tuesday, 28 April 2026 | Web Desk
واشنگٹن سےآنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدرٹرمپ ایران کی جانب سےدی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ۔
ایک امریکی عہدیدارنےبرطانوی خبرایجنسی کو بتایا کہ ایران نےنئی تجاویز میں جوہری پروگرام کےمستقبل سے متعلق کوئی واضح اورٹھوس مؤقف پیش نہیں کیا، یہی وجہ ہےکہ صدرٹرمپ اوران کی انتظامیہ ان تجاویزسےمطمئین نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نےاپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ذرائع کےمطابق، ابتدائی طورپرجنگ بندی اوراس کےبعدمستقل سیزفائرکی یقین دہانی شامل ہے۔ اس کےعلاوہ تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنےکوامریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
ایرانی قیادت کےمطابق یہ شرائط پوری ہو جائیں تو جوہری پروگرام پر بات ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران نےیہ بھی واضح کیاہےکہ وہ پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق سےکسی صورت دستبردارنہیں ہوگااوریہ کہ ایران کایہ حق امریکاکوتسلیم کرناہوگا۔
پاکستان کادورہ محفوظ رہا: عباس عراقچی
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنے عزائم ترک نہیں کرتا اس وقت تک مذاکرات بے معنی ہیں۔