Tuesday, 28 April 2026 | Web Desk
تیرے بغیر میں ادھورا سا ہوں
تیرے ساتھ میں جلتا سا نور ہوں
کبھی تو زہر، کبھی تو دوا
تو ہی درد میرا، تو ہی مرہم بھی تھا
تو توڑتا ہے، پھر جوڑتا ہے
تو رلا بھی دے، پھر چھوڑتا ہے
نہ دوستی نہ دشمنی، دل کا سچ بس تو ہی ہے
ہم راہی… درد بھی تو، دوا بھی تو
ہم راہی… نفرت کی وجہ بھی تو
ساتھ تیرے چلنا، ساتھ تیرے جینا
تو میرا زہر بھی، تو ہی مسیحا
ہم راہی…