Thursday, 23 April 2026 | Web Desk
رات کے اندھیرے میں ایک نور ہو
میرے لیے زندگی کے ان غموں میں تم آسرا
میرے لیے تم ہی ہو… تم ہی ہو… تم ہی ہو…
تم ہوا ہو، تم صبح
میری زندگی کی ہر دعا
تم سے مل کے یوں سکوں ملا
جیسے رات کا جلتا دیا
تم ہی ہو… تم ہی ہو… تم ہی ہو…
چل رہا ہوں میں تیرے سنگ یہاں
کچھ نہیں پتا کہ جانا کہاں ہے ہمیں
پھر ملیں گے ہم تم ہاں اسی جہاں میں
ہاں کہو کہ آوو گے تم
یوں مسکراو گے تم
ملنا ہے ضروری، یوں پھر نہ ہوگی دوری
شروع ہو جائیں گے یہ سلسلے
مختصر ہے یہ سفر، زندگی کی ہم کو کیا خبر
کل پھر نہ ہو
کسے بتا کے جا کے میرے ہمسفر
تم ہی ہو… تم ہی ہو… تم ہی ہو…