تاریخ: 10 جون 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بڑی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق، سالانہ 15 کروڑ روپے تک منافع کمانے والی کمپنیاں بدستور سپر ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی۔ جبکہ 20 کروڑ روپے منافع پر سپر ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے گھٹ کر 0.5 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح 25 کروڑ روپے منافع پر موجودہ 2 فیصد کی بجائے 1.5 فیصد سپر ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 30 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس کی شرح بدستور 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ اس سے زائد منافع کمانے والی کمپنیوں کے لیے 4 فیصد سپر ٹیکس برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
ادھر کارپوریٹ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس کی عمومی شرح میں فوری طور پر کوئی کمی متوقع نہیں۔
بجٹ سے متعلق دیگر تجاویز میں 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں 5.5 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ 3500 سے زائد درآمدی اشیاء اور خام مال پر عائد ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
پاکستان کوسخت فیصلےکرناہونگے: عالمی بینک
مقامی صنعتوں کے لیے ریلیف کے طور پر امپورٹڈ خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے یا اس میں کمی کی تجویز شامل کی جا رہی ہے، جب کہ ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں بھی 2 سے 5 فیصد تک نرمی کی جا سکتی ہے۔ تعمیراتی صنعتوں کو بھی خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس میں رعایت دیے جانے کا امکان ہے۔