Home / عریانیت کامطلب فحاشی نہیں، عدالت

عریانیت کامطلب فحاشی نہیں، عدالت

Kerala HC acquits Rehana Fatima

ویب ڈیسک ۔۔ بھارتی ریاست کیرالہ کی عدالت نےبچوں کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کرنے سمیت فحاشی پھیلانے جیسےالزامات کا سامنا کرنے والی مسلمان سماجی رہنما ریحانہ فاطمہ کے حق میں فیصلہ سناکرسب کرحیران کردیا۔ عدالت نےفیصلےمیں لکھاخواتین کےجسم کےاوپروالے حصے کی عریانیت کو فحاشی نہیں کہا جا سکتا۔

معروف بھارتی اخبارٹائمزآف انڈیاکےصفحات کی زینت بننےوالی اس خبرکےمطابق کیرالہ ہائی کورٹ نےریحانہ ظفرکےحق میں فیصلہ سناتےہوئےان کےخلاف درج مقدمےکوخارج کرنےکاحکم دیاہے۔ فیصلےمیں لکھاگیاہےکہ عریانیت کو جنسیت میں شمار نہیں کیا جا سکتا،مزیدیہ کہ اگر انسانی دھڑ کا اوپر والا حصہ برہنہ ہو تواسےفحاشی کہناغلط ہوگا۔

ہندوستان ٹائمزکےمطابق جسٹس کوثرایداپ پاگتھ نےاپنےفیصلےمیں لکھاکہ جسم کےاوپری حصلےکےبرہنہ ہونےکےحوالےسےالگ الگ نظریات ہیں۔ مردبغیرشرٹ کےہوتواسےکچھ نہیں کہاجاتاجبکہ خواتین ایساکریں توان پرفحاشی کےالزامت لگادئیےجاتےہیں۔ جج کےمطابق انہیں ریحانہ کی ویڈیومیں جنسی تسکین کاکوئی پہلونظرنہیں آیا۔ اگرکوئی بچہ اپنی ماں کےجسم پرپینٹنگ کررہاہےتواسےفحاشی پھیلانایاجنسی تسکین حاصل کرنانہیں کہاجاسکتا۔

فاضل عدالت نے ریحانہ فاطمہ کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بہت ساری چیزیں اخلاقی طور پر تو غلط ہو سکتی ہیں لیکن انہیں جرم کہناقطعی درست نہیں۔

دی لیف لیٹ میگزین کےمطابق ریحانہ فاطمہ کے خلاف تقریباً تین سال پہلے جون 2020 میں بچوں کو جنسی تسکین کیلئےاستعمال کرنے سمیت فحاشی پھیلانے کے الزامات پرمقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتارکرلیاگیا۔ ریحانہ پرفحاشی کےالزامات بی جےپی کیرالہ کےرہنمانےلگائےاوراسی نےمقدمہ بھی درج کرایا۔

ریحانہ فاطمہ کیرالہ سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی رہنما ہیں جنہیں خواتین کےاپنی جسامت پر اختیار دینے کے حوالے سےشہرت حاصل ہے۔ ریحانہ نےہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے فلم ساز سے شادی کی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

OpenAI Co founder resigns

مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی کاشریک بانی مستعفی

ویب ڈیسک ۔۔ مصنوعی ذہانت کےمیدان میں دنیاکی بڑی کمپنیوں میں سےایک اوپن اےآئی کےشریک …