Updated: July 30, 2025 | Web Desk
پاکستان میں کام کرنےوالی ٹیکنالوجی کمپنیوں نےخبردارکیاہےکہ حکومت کی جانب سےسوشل میڈیاکوکنٹرول کرنےکیلئےبنائےگئےقواعدکےتحت ان کیلئےملک میں کام جاری رکھنامشکل ہوجائےگا۔
ڈان اخبارمیں شائع ایک رپورٹ کےمطابق یہ قواعدالیکٹرانک جرائم کی روک تھام کےقانون دوہزارسولہ یعنی پیکاکےتحت وضع کئےگئےہیں ۔اخبارکو دیے گئےایک بیان میں ایشیا انٹرنیٹ اتحاد (اے آئی سی) نے انٹرنیٹ کمپنیوں کو ہدف بنانے جانے والےاس نئے قانون کے دائرہ کار کے ساتھ ساتھ حکومت کے ‘مبہم اقدام’ کے بارے میں بھی تشویش ظاہرکی ۔
اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘فروری میں جس مشاورت کا اعلان کیا گیا تھا وہ کبھی نہیں ہوئی’۔ٹیکنالوجی کمپنیوں نےدوٹوک الفاظ میں واضح کردیاکہ ان قوانین کی وجہ سے اے آئی سی ممبران کیلئے پاکستانی صارفین اور کاروباری اداروں کو اپنی خدمات فراہم کرناانتہائی مشکل ہوجائے گا۔
وزیرخزانہ نےقومی معیشت کاسچ قوم کوبتادیا
نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں متعلقہ تفتیشی ایجنسی کو کسی بھی طرح کی معلومات یا اعداد و شمارقابل فہم شکل میں فراہم کریں گی اوریہ کہ فراہم کی جانے والی معلومات میں صارفین کی معلومات، ٹریفک کا ڈیٹا، مواد کا ڈیٹا یادیگرمعلومات یا ڈیٹابھی شامل ہوسکتے ہیں۔