تاریخ: 4 جون 2025 | نیوز میکرزویب ڈیسک
پاکستان کی اہم زرعی فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد تک کمی۔ آئندہ سال خوراک کی درآمدات میں اضافہ متوقع ہے جو ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ بن سکتا ہے۔
ان اہم باتوں کااعتراف منصوبہ بندی کمیشن نےایک اجلاس میں کیاہے۔ ڈان نیوزکی خبرکےمطابق اجلاس میں کمیشن نےاعتراف کیاکہ یہ سب وفاقی اورصوبائی سطح پرحکومتی پالیسیوں اوراقدامات کانتیجہ ہے۔
یہ بات وفاقی بجٹ 2025-26 کے لیے تیار کردہ ایک ورکنگ پیپر میں سامنے آئی ، جس میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے کی کمزور کارکردگی جی ڈی پی کی شرح نمو کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
کمیشن نے کھلے الفاظ میں لکھا:
مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد ریکارڈ ہوئی، جو کہ مقررہ ہدف 3.6 فیصد سے کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ اہم زرعی اجناس کی پیداوار میں بڑی کمی ہے، جو موسمیاتی اثرات، بارشوں کی کمی، مہنگی کھاد و بیج، اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث واقع ہوئی۔
گندم کی قیمت طے کرنے کا معاملہ — کسانوں کو نقصان
گزشتہ سال حکومت نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) کا اعلان کیا تھا، جو کسانوں کے لیے خوش آئند تھا۔ تاہم بعد میں پنجاب حکومت نے کسانوں کی حمایت واپس لے لی، جس سے وہ منڈی اور مڈل مینوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ اس کے بعد، آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران، وفاقی حکومت نے زرعی اجناس کی قیمتوں میں مداخلت نہ کرنے اور MSP ختم کرنے کا عندیہ دیا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں کسانوں کو مہنگی کھاد اور دیگر لوازمات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اہم فصلوں کی صورتحال — اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟
منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق:
- کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کمی
- مکئی میں 15.4 فیصد کمی
- گنے میں 3.9 فیصد کمی
- چاول میں 1.4 فیصد کمی
- گندم کی پیداوار میں 8.9 فیصد کمی
البتہ کچھ دیگر فصلوں کی پیداوار میں 4.8 فیصد اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ لیکن مجموعی طور پر زرعی شعبہ شدید دباؤ کا شکار رہا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ گنے اور چاول کی فصلوں کی کاشت میں معمولی اضافہ ہونے کے باوجود پیداوار کم رہی، جو کہ یا تو موسم کی بے ترتیبی یا پیداوار کے دوران درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔
صنعتی شعبے پر بھی اثرات — کپاس جننگ 19 فیصد گھٹ گئی
کپاس کی کم پیداوار کے باعث ملک میں کپاس جننگ کی صنعت میں 19 فیصد کمی آئی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 47 فیصد تھی۔ اس کی وجہ جننگ فیکٹریوں کی بندش اور کپاس کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔
زرمبادلہ کی بچت یا قرض کی ادائیگی؟
اگرچہ یہ زرعی نقصان تشویشناک ہے، لیکن اس کے کچھ مالیاتی اثرات مثبت بھی ہیں۔ حکومت نے اس دوران اسٹیٹ بینک سے لیے گئے قرضے واپس کیے، گندم کی خریداری کے لیے لیے گئے قرضے بھی ادا کیے گئے، اور مجموعی طور پر ملکی قرضے میں نسبتاً کمی دیکھی گئی۔
لائیوسٹاک کی اچھی کارکردگی — روشن پہلو
منصوبہ بندی کمیشن نے لائیوسٹاک (مویشی پالنے کے شعبے) کی کارکردگی کو سراہا، جس میں 4.7 فیصد ترقی ہوئی۔ یہ ترقی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ویکسینیشن پروگرامز، بیماریوں کی نگرانی اور کنٹرول کے بہتر نظام کی مرہون منت ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر بھی متاثر — بڑی صنعتوں کی کارکردگی کم
مینوفیکچرنگ یعنی صنعتی شعبے میں بھی کمزوری دیکھنے کو ملی۔ پچھلے سال 3 فیصد ترقی کرنے والا شعبہ اس سال صرف 1.3 فیصد ترقی کر سکا، جبکہ ہدف 4.4 فیصد تھا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار (LSM) میں 1.5 فیصد کمی ہوئی، جو پچھلے سال 0.9 فیصد کے معمولی اضافے کے بعد ایک مایوس کن رجحان ہے۔
خوراک، کیمیکل، لوہے، مشینری اور فرنیچر کی پیداوار میں کمی ہوئی، جبکہ تمباکو، ٹیکسٹائل، پیٹرولیم، گاڑیاں اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔
نتیجہ: مستقبل کے لیے پالیسی میں بہتری ناگزیر
مجموعی طور پر رپورٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زرعی پیداوار میں مسلسل کمی تشویشناک ہے، اور اس کے لیے نہ صرف مضبوط پالیسی سپورٹ بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے والے اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔