Home / فیصلہ جلدسناناچاہتےہیں : چیف جسٹس

فیصلہ جلدسناناچاہتےہیں : چیف جسٹس

SC restores NA and PM Imran Khan

ویب ڈیسک ۔۔ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نگراں حکومت کا کام کیس کی وجہ سے رُکا ہوا ہے،اس لئےکوشش ہے کہ بدھ تک فیصلہ سنا دیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے آغاز میں خاتون درخواست گزار روسٹرم پر آگئیں اور عدالت سے کہا کہ سابق امریکی سفیر اسد مجید کو بلایا جائے تو سب سامنے آ جائے گا۔

رضاربانی کےدلائل
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے خواتین درخواست گزاروں کو بات کرنے روکتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سنیں گے۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے دلائل کی ابتدا کی۔

رضا ربانی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا میڈیا میں بیان آیا ہے کہ تین ماہ میں انتخابات ممکن نہیں۔ کوشش ہے کہ آج دلائل مکمل ہوں اور مختصر فیصلہ آ جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی جلدی فیصلہ چاہتے ہیں لیکن تمام فریقین کا موقف سن کر۔

رضا ربانی نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنی ہے۔ جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لاء ہی قراردیا جا سکتا ہے۔ سسٹم نےازخود ہی اپنا متبادل تیارکرلیا جوغیرآئینی ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے جاری کردہ نوٹس کے بعد ووٹنگ ضروری ہے۔ ووٹنگ آئینی کمانڈ ہے۔ تحریک عدم اعتماد کیخلاف بیانیے کیلئے خط کا سہارا لیا گیا۔

رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ بیرونی سازش کو وجہ بنایا گیا۔ جان بوجھ کر تحریک عدم اعتماد کیخلاف بیانیہ بنایا گیا۔ تحریک عدم اعتماد کیلئے پہلے ہی اجلاس تاخیر سے بلایا گیا۔ اکیس مارچ کو اجلاس محض دعا کرکے ملتوی کردیا گیا۔

مخدوم علی خان کےدلائل
وکیل مسلم لیگ ن نے دلائل میں کہا کہ عدالت تحریک عدم اعتماد کی قراداد کو دیکھے۔ تحریک عدم اعتماد وزیر اعظم کو ہٹانے کیلئے جمع کرائی گئی۔ تحریک میں موقف اختیارکیا گیا کہ وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ شہباز شریف نے اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ اسپیکر نے قرارداد کیلئے رائے لی تو 161 سے زائد ممبران عدم اعتماد کے حق میں کھڑے ہوئے۔

ن لیگ کے وکیل نے دلائل دیے کہ قرادا پیش کرنے کی اجازت ڈپٹی اسپیکر نے دی۔ 31 مارچ کو بغیر کسی کارروائی کے اجلاس تین اپریل تک ملتوی کیا گیا۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ تین اپریل کو اجلاس شروع ہوا تلاوت کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے موقع بہیں دیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے فواد چوہدری کو بولنے کا موقع دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 31 مارچ کو التوا کیسے کیا گیا؟ اسپیکر کی جانب سے کوئی ہے؟ ہمیں اجلاس کی کارروائی کے نوٹس دیے جائیں۔ اسپیکرکاریکارڈ پیش کیا جائے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے آئین میں نہیں۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ رولز بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ووٹنگ نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی کیسے ہوگئی؟ آئین کے مطابق سات دن میں عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے ووٹنگ آٹھویں دن ہو تو کیا غیرآئینی ہوگی؟

وکیل ن لیگ نے کہا کہ اگر پروسیجرمیں کوئی بے ضابطگی ہو تو بھی غیرآئینی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔ ووٹنگ کا عرصہ تین سے سات دن تک کا ہے بے ضابطگی کی بنیاد پر اس عرصے کو سات دن سے زیادہ نہیں بڑھایا جاسکتا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ قانونی تھی یا غیرقانونی۔ اصل مقدمہ اسپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت کو جانچنا ہے۔

وکیل ن لیگ نے کہا کہ عدم اعتماد پر دی گئی رولنگ آئننی تقاضوں کیخلاف ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا عدم اعتماد کی تحریک میں غیر قانونی عوامل کو جانچا جا سکتا؟

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کو عدم اعتماد کی تحریک میں موجود غیر قانونی عوامل کو بھی جانچنے کا اختیارحاصل ہے۔

مصطفی رمدے نے مخدوم علی خان کو کرس گیل قرار دیدیا

اے این پی کے وکیل نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا تے ہوئے کہا کہ مصطفی رمدے نے کہا کہ کرس گیل کے بعد مزید کھیلنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

تمام درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آگاہ کریں کہ پارلیمان کس قسم کی تحریکیں منظور کرسکتی ہے۔ تمام تحاریک کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ پارلیمان کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ پارلیمان کیلئے بے حد احترام ہے۔ ماضی میں عدالت غیرآئینی اقدامات پر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت کرتی رہی ہے۔

حکومتی وکلا نے سماعت بدھ تک ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج سماعت مکمل نہیں ہو سکتی، کوشش ہے کہ بدھ تک فیصلہ سنا دیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

یہ بھی چیک کریں

Khawaja Asif Claims on Imran Khan

عمران خان اسٹیبلشمنٹ سےصلح چاہتےہیں،خواجہ آصف

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ عمران خان کےموجودہ آرمی چیف کوتوسیع دینےکےبیان پرتبصرہ کرتےہوئےوزیرخواجہ آصف نےکہاکہ عمران …