Home / جسٹس فائزعیسیٰ کادھماکےداربیان

جسٹس فائزعیسیٰ کادھماکےداربیان

Military courts case in SC

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ فوجی عدالتوں میں سویلینزکےکیسزچلائےجانےکےخلاف درخواستوں پرچیف جسٹس سپریم کورٹ عمرعطابندیال نےاپنی سربراہی میں جو 9رکنی لارجربینچ بنایاتھاوہ آج اپنی پہلی اورمختصرسماعت کےبعدٹوٹ گیا۔ نامزدچیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےبینچ کاحصہ بننےسےمعذرت کےبعدچیف جسٹس عمرعطابندیال نےنیا7رکنی بینچ تشکیل دےدیا۔ نئےبینچ میں جسٹس فائزعیسیٰ اورجسٹس طارق مسعودبینچ کاحصہ نہیں۔

آج جب 9رکنی بینچ نےسماعت شروع کی توجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کاکہناتھاکہ آج کازلسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کردی گئی، میں اس بینچ کو "بینچ” تصور نہیں کرتا، میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ کیا جائے، میرا موقف یہ ہے کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل کو ٹھکانے نہ لگایا جائے تب تک میں کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا۔ انہوں نےکہاکہ پریکٹس اینڈپروسیجربل پرفیصلہ ہونےتک ہربینچ غیرقانونی ہے۔

نورکنی بینچ میں چیف جسٹس کےعلاوہ عدالت عظمیٰ کےسینئرترین جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ، جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اورجسٹس مظاہرنقوی شامل تھے۔

سینئرقانون دان عرفان قادرکاردعمل

فائزعیسیٰ نےجوکیاوہ درسست ہے۔ مجھےتوقع تھی کہ جسٹس فائزعیسیٰ اورجسٹس سردارطارق مسعوداس کاحصہ نہیں رہیں گے۔ چیف جسٹس مسلسل آئین اورقانون کےخلاف کام کررہےہیں۔ انہیں پریکٹس اینڈپروسیجرقانون کی معطلی کاکوئی اختیارنہیں۔ چیف جسٹس ایک طرح سےمس کنڈکٹ کےمرتکب ہوئےہیں۔ قاضی فائزعیسیٰ نےجوبھی کہاوہ درست ہےکہ جب تک پریکٹس اینڈپروسیجربل کافیصلہ نہیں ہوتاکوئی بھی بینچ،بینچ نہیں ۔ انہوں نےکہاکہ جسٹس منصورعلی شاہ اورجسٹس یحییٰ آفریدی کوبھِی اس بینچ سےالگ ہوجاناچاہیے۔

فوجی عدالتوں کےخلاف پٹیشنرز

سپریم کورٹ میں سابق چیف جسٹس جوادایس خواجہ نےملٹری کورٹس کےخلاف درخواست دائرکی تھی۔ اس سےپہلےتحریک انصاف بھی سویلینزکےکیسزفوجی عدالتوں میں چلانےکوسپریم کورٹ میں چیلنج کرچکی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سےیہ پٹیشن پارٹی کےسیکرٹری جنرل عمرایوب نےدائرکی جس میں موقف اختیارکیاگیاکہ سویلینزکےمقدمات فوجی عدالتوں میں چلانےکامطلب آئین میں دئیےگئےفئیرٹرائل کےبنیادی حق سےانکارہے۔

کس کس کاکیس فوجی عدالت میں چلےگا؟

وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ کےمطابق نومئی واقعات میں ملوث 33افرادایسےہیں جن کےکیسزفوجی عدالتوں میں چلیں گے۔ راناثنااللہ کےمطابق صرف انہی افرادکےمقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گےجوفوجی تنصیبات پرحملوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نےیہ بھی واضح کیاکہ فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانےسےپہلےآرمی حکام اس بات کاجائزہ لیں گےکہ آیاجوکیسزبھجوائےگئےہیں وہ ملٹری ایکٹ کےتحت آتےبھی ہیں یانہیں؟ راناثنااللہ ایک سےزیادہ باریہ کہہ چکےہیں کہ نومئی کےواقعات کولیکرکسی معصوم کےخلاف کوئی کیس نہیں بنایاجائےگا لیکن جولوگ واقعی ملوث ہیں وہ ناک سےلکیریں بھی نکالیں توانہیں معافی نہیں ملےگی۔

ملٹری ایکٹ کیاہے؟

پاکستان میں 1952میں ملٹری ایکٹ کاقانون منظورکیاگیا۔ اس قانون کےتحت فوج سےوابستہ لوگوں کےمقدمات فوج کےاپنےقوانین کےتحت چلائےجائیں گے۔ اس قانون کی کچھ شقوں کےتحت سویلینزکےکیس بھی آرمی ایکٹ کے تحت چلائےجاسکتےہیں۔

جنرل ایوب خان نے1966میں اس ایکٹ میں ایک ترمیم کی جس کےتحت وہ سویلیزجن پرفوج کےرینک اینڈفائلزمیں بغاوت کےالزامات ہوں ، ان کےکیسزبھی ملٹری ایکٹ کےتحت چلائےجاسکتےہیں۔ اس کےعلاوہ ان سویلینزکےکیس بھی ملٹری کورٹ میں چلائےجاسکتےہیں جن پرسٹیٹ کےرازدشمن کودینےیافوجی تنصیبات پرحملےجیسےالزامات ہوں۔

فوجی عدالت میں مقدمات کیسےچلتےہیں؟

ملٹری ایکٹ کےتحت کام کرنےوالی عدالت کوفیلڈجنرل کورٹ مارشل کہاجاتاہےاوریہ فوج کےاپنےلیگل ڈائریکٹورٹ کےتحت کام کرتی ہےجسےجج ایڈووکیٹ جنرل یعنی جیگ برانچ کہاجاتاہے۔ فوجی عدالت کاصدرحاضرسروس ملٹری افسرہوتاہےجبکہ پراسیکیوشن کونسل بھی ایک فوجی افسرہی ہوتاہے۔

فوجی عدالتوں سےسزایافتہ مجرموں کوہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں اپیل کاحق حاصل ہوتاہے۔

ملٹری کورٹ سےکتنی سزاہوتی ہے؟

فوجی عدالت سےکیسےکتنی سزاہوتی ہےیہ اس کےکیس کی نوعیت پرمنحصرکرتاہے۔ فوجی عدالت سےدوسال سےلیکرعمرقیدیاسنگین مقدمات میں سزائےموت بھی دی جاسکتی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

safety wife campaign in punjab

تارلگائیں ۔۔ زندگی بچائیں

ویب ڈیسک ۔۔ فیصل آبادمیں دھاتی ڈورسےنوجوان کی موت کےبعدپنجاب حکومت کاہرموٹرسائیکل پرحفاظتی تارلگانےکی مہم …