تاریخ: 19 مئی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
پاکستان سے بڑھتی قربت پر بھارت میں ترکی کے خلاف عوامی غصہ آسمان چھونے لگا ہے۔ چھوٹے کریانہ فروشوں سے لے کر بڑے آن لائن فیشن اسٹورز تک، ہر طرف ترکی کی اشیاء کا بائیکاٹ زوروں پر ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ پاک بھارت لڑائی کے بعد پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا تو بھارت میں طوفان مچ گیا۔ بھارت کے جوابی حملوں کے بعد چار دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد فائر بندی تو ہوگئی، لیکن اس کے آفٹرشاکس ابھی باقی ہیں۔
پیر کے روز آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرز فیڈریشن (AICPDF) نے اعلان کیا کہ اب بھارت بھر میں ترک اشیاء — جیسے چاکلیٹ، بسکٹ، جیم، ویفرز اور سکن کیئر مصنوعات — کی "غیر معینہ مدت کے لیے مکمل بائیکاٹ” کیا جائے گا۔ یہ فیڈریشن ملک بھر کے 1.3 کروڑ دکانداروں کو سامان سپلائی کرتی ہے۔
صرف خوردہ سطح پر ہی نہیں، بلکہ آن لائن دنیا میں بھی ترک مصنوعات کے خلاف محاذ کھل چکا ہے۔ فلپ کارٹ کے ذیلی فیشن پلیٹ فارم Myntra اور مکیش امبانی کے AJIO نے بھی ترک فیشن برانڈز جیسے Trendyol، LC Waikiki، Koton اور Mavi کو اپنی ویب سائٹس سے غائب کر دیا ہے۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام “قومی مفاد” کے تحت کیا گیا۔
ادھر ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ، جو ملک کے بڑے سیب پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک کے سربراہ ہیں، نے ترک سیب کی درآمد پر پابندی کی تجویز دی ہے — جن کی مالیت سالانہ تقریباً 60 ملین ڈالربنتی ہے۔
سعودی عرب سےپاکستانیوں کیلئےاچھی خبر
سیول کاپاکستان میں اندرون شہرسروس بندکرنےکااعلان
فلپ کارٹ نے ترکی کے لیے فلائٹس، ہوٹلز اور ہالیڈے پیکجز کی بکنگ بھی بند کر دی ہے۔ نئی دہلی نے ترکی کی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی Celebi کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے، جبکہ ایئر انڈیا نے ترک ایئرلائنز سے انڈیگو کی شراکت پر اعتراض اٹھایا ہے۔
بھارتی حکومت نے سرکاری سطح پر ترک اشیاء کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا، لیکن عوامی اور تجارتی حلقوں میں بائیکاٹ کی لہر شدت اختیار کر چکی ہے۔ ترک برآمدات کا حجم 2.7 ارب ڈالر ہے، جس میں صرف فوڈ آئٹمز کی مالیت 234 ملین ڈالر اور ملبوسات کی 81 ملین ڈالر بنتی ہے۔