Home / پاکستان میں کیاگاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں کیاگاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ

Kia motors increase prices in Pakistan

July 02, 2025 | Web Desk

پاکستان میں کیا گاڑیاں اسمبل اور تقسیم کرنے والی کمپنی لکی موٹر کارپوریشن (LMC) نے یکم جولائی 2025 سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیاہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کےمطابق قیمتوں میں یہ اضافہ مختلف ماڈلزپرلاگوہوگا۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

کمپنی کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • وفاقی بجٹ میں نافذ کیا گیا نیا NEV لیوی ٹیکس
  • پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر
  • بین الاقوامی شپنگ اخراجات میں اضافہ

سب سے زیادہ اضافہ کن ماڈلز پر ہوا؟

سب سے زیادہ اضافہ کیا سورینٹو HEV AWD، HEV AWD – EMI اور کیا کارنیول پر کیا گیا ہے، جن کی قیمت میں 7 لاکھ روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس Picanto AT کی قیمت میں صرف 1.5 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔


کیا اسپورٹیج کی نئی قیمتیں

ماڈلپرانی قیمتنئی قیمتاضافہ
Sportage L Alpha84,99,00088,99,0004,00,000
Sportage L FWD99,99,0001,04,99,0005,00,000
Sportage L HEV1,09,99,0001,15,99,0006,00,000

تمام ماڈلز کی نئی ریٹ لسٹ

ماڈلپرانی قیمت (PKR)نئی قیمت (PKR)اضافہ (PKR)
Picanto AT39,40,00040,90,0001,50,000
Stonic EX+55,00,00059,99,0004,99,000
Stonic EX47,67,00048,62,00095,000
Sportage L Alpha84,99,00088,99,0004,00,000
Sportage L FWD99,99,0001,04,99,0005,00,000
Sportage L HEV1,09,99,0001,15,99,0006,00,000
Sorento 3.5L V61,34,99,0001,38,99,0004,00,000
Sorento 3.5L V6 – EMI1,39,99,0001,43,99,0004,00,000
Sorento HEV FWD1,46,99,0001,52,99,0006,00,000
Sorento HEV FWD – EMI1,51,99,0001,57,99,0006,00,000
Sorento HEV AWD1,59,99,0001,66,99,0007,00,000
Sorento HEV AWD – EMI1,64,99,0001,71,99,0007,00,000
Carnival1,75,00,0001,82,00,0007,00,000

دلچسپ پہلو: کچھ ماڈلز کی قیمتیں برقرار

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ EV5 Air، EV5 Earth اور EV9 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان ماڈلز کی قیمتیں بالترتیب 1.85 کروڑ، 2.35 کروڑ اور 4.32 کروڑ روپے پر برقرار ہیں۔

ہونڈااورنسان کاانضمام کیوں ناکام ہوا؟

اضافی شرائط اور وضاحتیں

  • نئی قیمتوں کا اطلاق ان تمام صارفین پر ہوگا جن کی گاڑیاں یکم جولائی 2025 یا اس کے بعد انوائس ہوں گی۔
  • گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت اگر کوئی نیا حکومتی ٹیکس، ڈیوٹی یا کرنسی میں تبدیلی ہوتی ہے، تو اس کا بوجھ خریدار کو برداشت کرنا ہوگا۔
  • تمام قیمتیں ایکس-فیکٹری ہیں اور ان میں فریٹ یا انشورنس چارجز شامل نہیں ہیں۔

تجزیہ:
کاروں کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عام صارف کے لیے پریشان کن ہے بلکہ یہ آٹو انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ حکومتی ٹیکس، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی اخراجات میں اضافہ جیسے عوامل مستقبل میں مزید مہنگائی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

Pak Afghanistan transit trade

افغان ٹرانزٹ ٹریڈبندہونےکاپاکستان کوفائدہ ہوگا: خواجہ آصف

Thursday, 14 November 2025 | Web Desk وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کی جانب …