Saturday, 13 June 2026 | Web Desk
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں ایک طرف دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور سماجی تحفظ کے لیے بڑے فنڈز رکھےگئےہیں تو دوسری جانب ٹیکس نظام میں بہت سی نمایاں تبدیلیاں کئےجانےکی تیاری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےجمعہ کےروز قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ وزیرخزانہ کےمطابق، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور آئندہ مالی سال میں معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔
معیشت اس وقت کہاں کھڑی ہے؟
وزیر خزانہ کےبقول موجودہ مالی سال میں:
- معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔
- لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا۔
- خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ترقی ہوئی۔
- معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
- فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔
- زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔
- ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کا امکان ۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد شرح نمو اور 8.2 فیصد اوسط افراط زر کا ہدف مقرر کیا ہے۔
بجٹ کا بڑا حصہ کہاں جائےگا؟
18ہزار 771 ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں سب سے بڑا خرچ قرضوں پر سود کی ادائیگی پر ہوگا۔
اہم اخراجات میں شامل ہیں:
- قرضوں پر مارک اپ: 8,054 ارب روپے
- دفاع: 3,000 ارب روپے
- پنشن: 1,169 ارب روپے
- سبسڈیز: 1,091 ارب روپے
- سول انتظامیہ: 1,071 ارب روپے
- وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP): 1,000 ارب روپے
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مجموعی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلاجائےگا۔
دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ
بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں حکومت نے دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے مقرر کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا تسلیم کر رہی ہے اور متعدد ممالک پاکستانی دفاعی مصنوعات اور لڑاکا طیاروں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے؟
بجٹ میں:
- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
- پنشن میں 7 فیصد اضافہ
- کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز
شامل کی گئی ہے۔
یہ اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ملازمین کی تنظیمیں اس سے زیادہ اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے متعدد ٹیکس ریلیف اقدامات تجویز کیے ہیں۔
اہم تبدیلیاں:
- 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس 20 فیصد
- 32 سے 41 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 25 فیصد
- 41 سے 56 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 29 فیصد
- 56 سے 70 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 32 فیصد
اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویزہے۔
کاروبار اور صنعت کے لیے مراعات
حکومت نے:
- 15 سے 50 کروڑ روپے آمدن والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس ختم کرنے
- 50 کروڑ سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے
- ایکسپورٹرز پر ٹیکس بوجھ کم کرنے
- آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس مزید تین سال جاری رکھنے
کی تجاویز دی ہیں۔
یہ اقدامات برآمدات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
جائیداد کے شعبے کیلئےریلیف
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی اہم رعایتیں تجویز۔
- خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد
- فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد
کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سے جائیداد کی خرید و فروخت میں سرگرمی بڑھنے کا امکان ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے نیا نظام
20 کروڑ روپے تک سالانہ فروخت رکھنے والے چھوٹے تاجروں کے لیے نیا فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس نظام کے تحت:
- سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس
- کم از کم 25 ہزار روپے ادائیگی
- معمول کے آڈٹ سے استثنیٰ
- پی او ایس مشین لگانے کی پابندی نہیں
ہوگی۔
ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ
وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اہم منصوبے:
- این 25 کراچی تا چمن شاہراہ کی دو رویہ تعمیر: 100 ارب روپے
- سکھر حیدرآباد موٹروے: 30 ارب روپے
- ایم ایل ون کراچی تا روہڑی سیکشن: 25 ارب روپے
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبے تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی روابط میں اضافہ کریں گے۔
پانی کے بحران سے نمٹنے کا منصوبہ
پاکستان کو درپیش پانی کے شدید چیلنجز کے پیش نظر:
- 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب روپے
- مہمند ڈیم: 22 ارب روپے
- دیامر بھاشا ڈیم: 14 ارب روپے
- داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ: 15 ارب روپے
مختص کیے گئے ہیں۔
توانائی اور قابل تجدید بجلی
توانائی کے شعبے میں:
- واپڈا کے صاف توانائی منصوبوں کے لیے 50.2 ارب روپے
- آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہائیڈرو منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے
- بجلی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز
مختص کیے گئے ہیں۔
صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ
حکومت نے:
- صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے
- اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے
- بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 838 ارب روپے
مختص کیے ہیں۔
بی آئی ایس پی کا بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔
خواتین اور صحت سے متعلق اہم فیصلے
بجٹ میں:
- سینیٹری پیڈز پر ٹیکس ختم کرنے
- خواتین کی صحت سے متعلق متعدد مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے
- مانع حمل اشیاء پر ٹیکس ختم کرنے
کی تجویز شامل ہے۔
سوشل میڈیا انفلونسرز بھی ٹیکس نیٹ میں
فنانس بل کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رقم اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے وقت ٹیکس خودکار طور پر کٹ جائے گا۔
یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن آمدنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
عوام کو کیا ملا، کیا گیا؟
عوام کو ملا:
- تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
- کم از کم اجرت میں اضافہ
- تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف
- جائیداد کے شعبے میں ٹیکس میں کمی
- خواتین کی صحت سے متعلق اشیاء پر ٹیکس خاتمہ
عوام پر بوجھ:
- بڑی گاڑیوں اور درآمدی گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹیز
- بعض شعبوں میں نئے ٹیکس اقدامات
- ڈیجیٹل کریئیٹرز اور سوشل میڈیا انفلونسرز پر ودہولڈنگ ٹیکس
نتیجہ
وفاقی بجٹ 2026-27 کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا بجٹ ہے جس میں حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، دفاعی ضروریات پوری کرنے، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اصل امتحان اس بجٹ پر عملدرآمد، محصولات کے اہداف کے حصول اور عام شہری تک اس کے ثمرات پہنچانے کا ہوگا۔