Tuesday, 07 October 2025 | Web Desk
امریکا نے پاکستان کو جدیدایئرٹو ایئرمیزائلز (AMRAAM) کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون (Raytheon) کے ایک حالیہ معاہدے میں تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان کو باضابطہ طور پر خریدار ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہی میزائل پاکستان فضائیہ کے ایف-16 فالکن طیاروں پر نصب کیے جاتے ہیں — اور ان کی فروخت پاکستان کےدفاعی نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے 30 ستمبر کو جاری بیان کے مطابق، ریتھیون کمپنی کو 4 کروڑ 16 لاکھ ڈالرمالیت کا نیا معاہدہ دیا گیا ہے، جس میں C8اور D3 ماڈلز کے جدید ایڈیشن شامل ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد مجموعی معاہدے کی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5ارب ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کام امریکی ریاست ایریزونا کے شہرٹکسن میں انجام پائے گا اور 30 مئی 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس معاہدے میں پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ، جرمنی، سعودی عرب، قطر، اومان، جاپان، ترکی، جنوبی کوریا، اسرائیل، فن لینڈ، سویڈن سمیت 30 سے زائد ممالک شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال 7 مئی کو ہونے والے اسی معاہدے میں پاکستان کا نام شامل نہیں تھا۔ تاہم، بعد میں معاہدے میں تبدیلی کے بعد اسلام آباد کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا — جو پاک-امریکا تعلقات میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ایک اورغلطی اوربھارت دفن: خواجہ آصف
یہ نیا دفاعی معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے — خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف تعاون ہو، یا جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کردار۔
دوسری جانب، پاکستان نے بھی معاشی محاذ پر امریکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے، بالخصوص معدنیات، تیل اور ڈیجیٹل کرنسی کے شعبوں میں۔
یہ سب اشارے اس امر کی طرف ہیں کہ پاکستان خطے میں ایکنئی اسٹریٹجک اور معاشی پوزیشناختیار کرتا جا رہا ہے اور یہ تازہ امریکی اقدام اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا مظہر ہے۔ ذرائع کےمطابق امریکی فیصلےسےبھارت کےحکومتی اورعسکری حلقوں میں شدیدبےچینی پائی جارہی ہے۔