ویب ڈیسک: بھارت میں ایئرانڈیاکےطیارےکےحادثےسےمتعلق کچھ حیرت انگیزحقائق سامنےآئےہیں ۔ آئیےآپ کےساتھ وہ حقائق شیئرکرتےہیں ۔
عالمی میڈیاکی رپورٹس کےمطابق ایئرانڈیاکی پروازاےآئی ون سیون ون جب ٹیک آف کررہاتھاکہ اس کی رفتاروہ نہیں تھی عموماًٹیک آف کےوقت اس طیارےکی ہونی چاہیےتھی ۔
دوسری بات یہ کہ 600فٹ کی بلندی پرجانےکے باوجود جہاز کا لینڈنگ گیئر بندکیوں نہیں ہوا؟
۔ انجن سے کوئی دھواں نکلتا دکھائی دیا نہ کوئی پرندہ ٹکرایا
بس طیارے کی رفتارکم ہوئی اوردیکھتےہی دیکھتےوہ گرکر تباہ ہوگیا۔۔
ماہرین حادثہ کی وجہ جاننے کیلئے مختلف پہلوؤں پر غورکرنےمیں لگےہوئےہیں۔
طیارےنےدوپہر1:38پراحمد آباد ایئر پورٹ سےلندن کیلئےاڑان بھری۔۔
صرف ایک منٹ کےبعدپائلٹ نےمے ڈے کی کال دی پھر رابطہ کٹ گیا۔۔۔
چند منٹ بعد طیارہ رہائشی علاقے ’میگھانی نگر‘ پر گرکر تباہ ہوگیا۔
ماہرین کا کہنا ہے حادثے کا شکاربوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے 2 طاقتورانجن ہوتے ہیں ۔
ایک انجن بند بھی ہو جائے تو طیارہ دوسرے انجن کے سہارے نہ صرف سفر بلکہ ٹیک آف یا لینڈنگ بھی کر سکتا ہے۔
بوئنگ 737 کے ایک پائلٹ کا کہنا تھا ،، لگتا ہے طیارے کےدونوں انجن بند ہوگئے۔
بھارتی ائیرفورس کے ایک سابق پائلٹ نے لینڈنگ گیئر اور پروں کی پوزیشن پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے جہاز کے فلیپس ٹیک آف کے وقت جیسے ہونے چاہئيں، ویڈیو میں ویسے نظر نہيں آئے۔
طیارےکابلیک باکس ڈھونڈاجارہاہےکیونکہ حادثےکی اصل وجہ بلیک باکس ملنےپرہی پتاچلےگی ۔۔
یادرہےکہ احمدآبادایئرپورٹ پریہ دوسراخوفناک ہوائی حادثہ ہے۔ 37سال پہلے1988میں بھی ایک فضائی حادثہ ہواتھا۔ فرق یہ تھاکہ وہ طیارہ لینڈنگ کرتےہوئےتباہ ہواجس سے133کےقریب لوگوں کی جان گئی ۔