ویب ڈیسک: دنیا کے صفِ اول کے مالیاتی جریدے بیرن (Barron’s) نے پاکستان کی معیشت کو ایک ’’معاشی کرشمہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ یہ جریدہ معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا سسٹر ادارہ ہے، جس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر سرمایہ کاروں نے پاکستان پر توجہ نہ دی، تو وہ آنے والے وقت میں ضرور پچھتائیں گے۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ حالیہ پاک بھارت سرحدی کشیدگی شاید پاکستان کی اقتصادی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ نہ بن سکی تاہم ملک کے اندرونی معاشی ڈھانچے کی کمزوریاں بدستور ایک چیلنج ہیں۔
رپورٹ میں درج اہم نکات:
- کراچی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تین گنا بڑھ چکا ہے۔
- مہنگائی، جو کسی وقت 40 فیصد سالانہ تھی، اب تقریباً صفر پر آ گئی ہے۔
- پاکستان کے 2031 میں میچور ہونے والے یوروبانڈز کی قیمت 40 سینٹ سے بڑھ کر 80 سینٹ تک پہنچ چکی ہے۔
- سرمایہ کاروں کے لیے خطرناک سمجھی جانے والی منڈیوں میں سرمایہ لگانے والی کمپنی سینڈ گلاس کیپیٹل مینجمنٹ کے مطابق، "اب پاکستان اتنا خطرناک نہیں رہا۔”
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اقتصادی حالات نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے فوجی شراکت داروں کو ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی ایک نایاب ترغیب فراہم کی ہے۔ معروف ماہر اقتصادیات سیلمی کا کہنا ہے کہ اس مثبت تبدیلی کا کچھ کریڈٹ شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو ضرور جاتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے 2022-23 میں دیوالیہ ہونے کے قریب ترین صورتحال کا سامنا کیا، مگر اب مالیاتی توازن مثبت ہو چکا ہے۔
سندھ حکومت نےایس باس ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کردیا
دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2025-26 کے بجٹ پر بات چیت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔
سینڈ گلاس کیپیٹل کے سرمایہ کاری کے سربراہ جینا لوزوسکی نے پاکستان کو ایک ’’اچھی کہانی‘‘ قرار دیا، جبکہ والٹن کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلسن گراہم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد تک کر کے اگرچہ معیشت کو کساد بازاری میں دھکیل دیا، لیکن مہنگائی پر قابو پا لیا گیا۔
آخر میں بیرن کی رپورٹ نے واضح کیا کہ استحکام اور ترقی دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان کو ترقی کے لیے ان مشکل اصلاحات سے گزرنا ہوگا جو شاید طاقتور طبقے کے مفاد میں نہ ہوں اور عوام میں بھی مقبولیت نہ رکھتی ہوں — جیسے کہ ٹیکس آمدن میں اضافہ اور بجلی کی سبسڈی میں کمی۔