Home / سوات واقعہ سےجڑی دوکہانیاں

سوات واقعہ سےجڑی دوکہانیاں

swat mob lynching incident

ویب ڈیسک ۔۔ کیاآپ جانتےہیں کہ سوات میں عیدالاضحیٰ کےایک روزبعدتوہین مذہب کےجرم میں ایک شخص کی ہجوم کےہاتھوں ہلاکت کےپیچھےکی دوکہانیاں کیاہیں؟

عجیب بات ہےکہ سوات پولیس خوفناک واقعہ کودو روزگزرجانےکےبعدبھی مرنےوالےشخص کی جانب سےقرآن پاک کی مبینہ بےحرمتی کےثبوت تلاش کررہی ہے۔ سلیمان نامی یہ شخص جوسیالکوٹ سےسوات آیاتھا،اسےمشتعل ہجوم نےانتہائی وحشیانہ تشددکانشانہ بنانےکےبعدزندہ جلادیاتھا۔

اس لرزہ خیزواقعہ سےجڑی دومختلف کہانیاں سامنےآرہی ہےلیکن سچ کیاہے،اس کاسامنےآناابھی باقی ہے۔

ایک کہانی کےمطابق جس ہوٹل میں سلیمان رہائش پزیرتھااسی ہوٹل میں رہنے والے کچھ لوگوں نے ہوٹل انتظامیہ سے شکایت کی کہ سلیمان احمد نے قرآن پاک کے اوراق جلائے ہیں۔ ہوٹل انتظامیہ کی شکایت پرپولیس نے ملزم کو اپنی تحویل میں لےکرتھانےمنتقل کردیا۔

اسی دوران کچھ لوگوں نےیہ خبرلاوڈاسپیکرزکےذریعےپھیلادی اوردیکھتےہی دیکھتےوہاں لوگوں کاایک ہجوم جمع ہوگیا۔ یہ ہجوم وہاں سےتھانےپہنچااورسلیمان کوزبردستی پولیس حراست سےچھین کربری طرح ماراپیٹااوراس کےبعدادھ موئی حالت میں ملزم کوآگ لگادی ۔

دوسری کہانی کےمطابق سلیمان کاہوٹل انتظامیہ سےکسی بات پرجھگڑاہواجس کےبعدہوٹل انتظامیہ نے اس کی اطلاع پولیس کو دی اور الزام لگایا کہ سلیمان نے ہوٹل میں قرآن پاک کے اوراق جلائے۔

پاکستان کے ایک وفاقی ادارے کی جانب سے سوات میں موب لنچنگ کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں اس واقعے کے بارے میں کچھ حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں پولیس کی نااہلی اورغیرپیشہ ورانہ روئیےپرسوال اٹھائےگئےہیں۔ رپورٹ کےمطابق پولیس کوملزم کوحراست میں لینےکےبعدتھانےکی بجائےکسی محفوظ جگہ منتقل کرناچاہیےتھالیکن ایسانہیں کیاگیا۔

واقعےکی تحقیقات کیلئےجےآئی ٹی تشکیل دےدی گئی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

Khawaja Asif attacks judiciary

خواجہ آصف عدلیہ پربرس پڑے

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ توہین وہاں پرہوتی ہےجہاں کسی ادارےنےاپنی عزت برقراررکھی ہو۔ کیاتوہین صرف عدلیہ …