Home / اگلےبجٹ میں 4کھرب30ارب کےنئےٹیکس لگانےکی تیاریاں

اگلےبجٹ میں 4کھرب30ارب کےنئےٹیکس لگانےکی تیاریاں

430 Bn taxes planned for next federal budget

ویب ڈیسک ۔۔ پاکستان کےآنےوالےبجٹ میں وفاقی ٹیکس محصولات میں تقریباً 11 کھرب 55 ارب روپےکا اضافہ ہوجائے گاجس میں4 کھرب 30ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات بھی شامل کئےجائیں گے۔

ڈان اخبارمیں شائع رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو جزوی طور پر قابو میں رکھنے کی کوششوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے رواں مالی سال کے بجٹ کے 610 ارب روپے کے مقابلے میں پیٹرولیم لیوی کی وجہ سے بہت کم وصولی کا ہدف مقررکرے گی۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 23-2022 کے دوران 72 کھرب 55 ارب روپے اکٹھا کرنے ہیں، جو کہ موجودہ مالی سال کے 61 کھرب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 11 کھرب 55 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

جی ڈی پی میں چار فیصد نمو کی مد میں تقریباً 7 کھرب 30 ارب روپے کی توسیع کے ساتھ مہنگائی 8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بقیہ 4 کھرب 30 ارب روپے ٹیکس اقدامات بشمول ذاتی انکم ٹیکس، زیادہ ٹیکس کی شرح اور ٹیکس میں کم چھوٹ کے ذریعے پیدا کیے جائیں گے۔

اس طرح ایف بی آر کا ٹیکس ٹو ریونیو اگلے سال بڑھ کر 11.8 فیصد ہو جائے گا جبکہ رواں سال کے دوران اس کا تخمینہ 11.2 فیصد لگایا گیا تھا۔ اس میں سے جی ڈی پی کا تقریباً 0.4 فیصد فیڈرل ایکسائز اور 0.2 فیصد جنرل سیلز ٹیکس سے آئے گا۔

ایف بی آر کی آمدن میں 5 کھرب 20 ارب روپے کا بڑا اضافہ جنرل سیلز ٹیکس سے متوقع ہے جس کے لیے آئندہ بجٹ میں اس سال کے 27 کھرب 80ارب روپے کے مقابلے میں 33 کھرب روپے رکھے جائیں گے۔

آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام نے رواں سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کے ہدف کو 6 کھرب 7 ارب روپے سے کم کر کے 3 کھرب 56 ارب روپے کردیا ہے کیونکہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اس کی شرح کم رہی۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر آئندہ سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف 406 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

اسی طرح آئندہ مالی سال کے لیے نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 کھرب 80 ارب روپے رکھا جائے گا جو رواں سال کے نظرثانی شدہ 13 کھرب 80 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 200 ارب روپے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ ڈیٹ سروسنگ آئندہ سال تقریباً 4 کھرب 53 ارب روپے سے بڑھ کر 35 کھرب 23 ارب روپے تک جانے کا امکان ہے جو کہ موجودہ سال کی 30 کھرب 7 ارب روپے کی سود کی ادائیگی کے مقابلے میں جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد زیادہ ہے۔

دفاعی اخراجات اس سال 14 کھرب روپے سے ایک کھرب 86 ارب روپے بڑھ کر 15 کھرب 86 ارب روپے ہونے کا امکان ہے جبکہ جی ڈی پی کے فیصد کے حساب سے سود کی ادائیگی 5.7 فیصد پر برقرار رہے گی۔

یہ بھی چیک کریں

Imran Khan reaction on audio leak

آڈیولیک:عمران خان کاردعمل آگیا

ویب ڈیسک — امریکی سازش کےبیانئےپراپنی آڈیولیک پرعمران خان کاردعمل سامنےآگیا۔ اسلام آبادمیں ایک سیمینارمیں …