Tuesday, 12 May 2026 | Web Desk
معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کی ان دنوں سوشل میڈیاپرایک ویڈیووائرل ہے۔ ویڈیومیں طارق جمیل گاڑی سےاترسےکسی تقریب میں جارہےہیں، راستےمیں ایک بچےنےان سےہاتھ ملاناچاہاتومولانانےہاتھ ملانےکی بجائےاس بچےکواپنےہاتھ سےپیچھےہٹادیا۔
یہ ویڈیودیکھتےہی دیکھتےوائرل ہوگئی اورلوگوں نےمعصوم بچےکےہاتھ جھٹکنےپرمولاناطارق جمیل کوسخت تنقیدکانشانہ بنایااورتادم تحریریہ سلسلہ جاری وساری ہے۔
مولاناطارق جمیل کےبیٹےیوسف جمیل نےاس واقعےاوراس کی وجہ سےاپنےوالدپرہونےوالی تنقیدکی تفصیل سےوضاحت کی ہے۔ انسٹاگرام پر جاری ویڈیو بیان میں یوسف جمیل نےکہا کہ ایک بچےسےہاتھ نہ ملانےپرمولاناپربڑی تنقید ہو رہی ہے، تنقید کرنا ہر انسان کا حق ہےاورجس پرتنقیدہورہی ہےاسےسننابھی چاہیے۔ لیکن اس کےساتھ ساتھ جس پر آپ تنقید کر رہے ہیں، اس کا نکتہ نظرسننابھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا کو بچے سے مصافحہ کرلینا چاہیے تھا،اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن کیوں نہیں کیا، اس میں ایک نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ مولانا صاحب یا ان جیسی عوامی شخصیت کےمصافحے گننا چاہوں تو یہ کروڑوں میں ہوں گے۔ مولاناجیسےلوگ جہاں بھی جاتےہیں ملنےوالوں کی بڑی تعدادہوتی ہے۔
یوسف جمیل کےمطابق، کوئی کتناہی بڑابزرگ یاشخصیت کیوں نہ ہو، کبھی نہ کبھی اس میں اکتاہٹ آہی جاتی ہےاورایساہوناکوئی غیرفطری بات نہیں ۔ مولانا پر تنقید کرنے والوں سے گزارش کروں گا کہ ممکن ہو تومولانا کے ساتھ صبح سے شام تک ایک دن گزاریں تو آپ کوپھراندازہ ہوگااورآج کل مصافحےکےساتھ سیلفی کلچربھی شامل ہوچکاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولاناطارق جمیل ملنےوالےلوگوں سےبہت محبت کرتےہیں اوراس بات کاخاص خیال رکھتےہیں کہ ملنےوالےلوگوں کی ناقدری نہ ہو۔
ویڈیو کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے ان کاکہناتھا،یہ ان کےاپنےمدرسےکی ویڈیوہے۔ رمضان المبارک کامہینہ اوررات کاوقت تھا، مولاناختم قرآن کی محفل میں تشریف لائے تھے اور یہ بچہ بھی ہمارےمدرسےکاہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولاناروزے میں عبادات کا اہتمام کرتے ہیں، سارا دن سوتے نہیں، عبادات کے ساتھ ساتھ روزےکی حالت میں بھی ورزش نہیں چھوڑتے،پوری تراویح ادا کرتےہیں اورجلدی سوجاتے ہیں لیکن اس دن ان کو اپنی روٹین کےخلاف جاکرجاگنا اوربیان کرناتھا۔
اس عمر میں اس طرح کی روٹین کے بعد اگرایک شخص کسی کو تھوڑا نظر انداز کرتاہےجو کہ نہیں کرناچاہیےتھاتو ہمیں اس کوگنجائش دینی چاہیے،تنقید ضرورکریں لیکن جو میں کہہ رہاہوں اس کو بھی سنیں اورسمجھیں۔ اس کے باوجود بھی آپ تنقید کرنا چاہیں، ویڈیوز بنانا یا لکھنا چاہیں تو ہم نے یا مولانا نے ہمیشہ تنقید کا خیرمقدم کیا ہے اور کبھی برا نہیں منایا ہے اور اس وقت بھی ایسا ہی کریں گے۔