Home / اسلامیہ یونیورسٹی: شرمناک دھندا،ملزم کابڑااعتراف

اسلامیہ یونیورسٹی: شرمناک دھندا،ملزم کابڑااعتراف

University security officer arrested

ویب ڈیسک ۔۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکےچیف سکیورٹی آفیسرکومبینہ طورپرانتہائی غیراخلاقی بلکہ شرمناک کاموں میں ملوث ہونےپرگرفتارکرلیاگیا۔

بہاولپورکےبغدادالجدیدتھانےکی پولیس نےچیف سکیورٹی کوجس وقت گرفتارکیاتومبینہ طورپراس کےقبضےسےآئس سمیت دیگرنشہ آوراشیاکےساتھ ساتھ اس کےدوموبائل فونزسےجامعہ کی خواتین اہلکاروں اورطالبات کی فحش ویڈیوزبھی برآمدہوئیں۔

یہ شخص اس وقت پولیس کےہاتھ لگاجب پولیس کی جانب سے ایک گاڑی کو چوکی پررکنے کا اشارہ کیا گیاتوڈرائیور نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اہلکاروں نے گاڑی کو روک لیا۔

تلاشی کے دوران پولیس کومشتبہ شخص کے قبضے سے 10 گرام کرسٹل میتھ اورافروڈیسیاک ملا۔ ڈرائیورنے اپنی شناخت سید اعجاز حسین شاہ کے طور پرکرائی جو کہ محمدیہ کالونی، بہاولپور کا رہائشی ہے۔

ایس آئی محمد افضل نواز کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا کہ ملزم کے موبائل فونز میں خواتین کی متعدد قابل اعتراض ویڈیوزاورتصاویر موجود ہیں جن میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی خواتین اہلکاراورطالبات بھی شامل ہیں۔

مبینہ طورپر ملزم نے کرسٹل میتھ کے استعمال اورفروخت کا اعتراف کیا اوراعتراف کیا کہ اس کے موبائل فون میں قابل اعتراض موادکاتعلق یونیورسٹی کی خواتین اہلکاروں اورطالبات سےہے۔

پولیس کی خصوصی رپورٹ

پولیس کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ کا ایک گروپ منشیات کی فروخت اور طالبات اور اساتذہ کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔ پولیس کےدعوےکےمطابق گرفتاری عہدیدار یونیورسٹی میں طلبہ اور اساتذہ کو بلیک میل کرنے اور ان کے جنسی استحصال میں بھی ملوث تھے۔

رپورٹ کےمطابق یونیورسٹی کےخزانچی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ دیگر اساتذہ کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر منشیات خریدتا اور طلبہ میں بانٹتا تھا۔ اس کےعلاوہ ڈانس/فحش پارٹیوں کا اہتمام بھی کیاجاتاتھا۔

پولیس کااس حوالےسےمزیدکہناہےاساتذہ کا گروہ لڑکیوں کا استحصال/بلیک میل کرتا تھا اور منشیات (آئس، شراب اور چرس) کا استعمال کرکے انہیں پھنسا لیتا، یہ گروہ اس قسم کی سرگرمیاں یونیورسٹی کے سیکیورٹی انچارج کی مدد سے انجام دے رہا تھا۔

یونیورسٹی کوبدنام کرنےکی کوشش

دوسری جانب یونیورسٹی کےوائس چانسلرڈاکٹراطہرمحبوب نےآئی جی پنجاب کوخط لکھ کرمعاملےکی شفاف انکوائری کی درخواست کی ہے۔ وائس چانسلرنےپولیس کی کارروائی کویونیورسٹی کوبدنام کرنےکی کوشش قراردیاہے۔

تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

جنوبی پنجاب کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) کے سیکریٹری نےاس سارےمعاملےکی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، سیکریٹری داخلہ نے 3 روز بعد رپورٹ طلب کر لی۔

سکیورٹی افسرکااعترافی ویڈیوبیان

اسلامیہ یونیورسٹی کاسارامعاملہ ابھی تحقیقات کےمراحل میں ہے، اسی دوران یونیورسٹی کےگرفتارچیف سکیورٹی افسراعجازشاہ کاویڈیوبیان وائرل ہورہاہے۔

ویڈیو پیغام میں، اعجازشاہ لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور منشیات کے استعمال میں ملوث آئی یوبی اساتذہ کا نام لیتے ہوئے نظرآ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی یوبی کے ہر شعبہ میں 3-5 اساتذہ طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث ہیں اور کچھ اساتذہ منشیات کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

اسی سےملتی جلتی ایک پیشرفت میں ڈی پی اوبہاولپورکاکہناہےکہ یونیورسٹی کے113ایسےطالبعلموں بارےپتاچلایاہےجومنشیات کےاستعمال میں ملوث ہیں۔ انہوں نےوائس چانسلرکےاس موقف کوسختی سےمستردکیاکہ پولیس یونیورسٹی کوبدنام کررہی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

Ali Amin Gandapur threatens Federal Govt

علی امین گنڈاپورکی وفاق کوبڑی دھمکی

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ ملک بھرکی بجلی آن آف کرنےکابٹن ہمارےپاس ہے۔ وفاقی حکومت نےخیبرپختونخواکےواجبات ادانہ …