مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ حکومت کی آئینی ترامیم پردبےالفاظ میں طنزکرتےہوئےمولانافضل الرحمان نےکہاخوبصورت الفاظ سےلوگوں کودھوکہ نہیں دیاجاسکتا۔
کراچی میں تقریب سےخطاب کرتےہوئےجےیوآئی کےسربراہ نےکہاوقت کےساتھ ساتھ تبدیلیاں ناگزیرہیں لیکن تبدیلی ایسی ہونی چاہیےکہ لوگوں کواس میں آپ کاذاتی مفادنظرنہ آئے۔ اگرلوگوں کواحساس ہوکہ اس میں آپ کاسیاسی مفادہےتوپارلیمنٹ اورحکمران اپنااعتمادبحال نہیں رکھ سکتے۔انتخابات میں دھاندلی ہوئی اورموجودہ اسمبلی اسٹیبلشمنٹ کی اسمبلی ہے۔
مولانافضل الرحمان نے کہاپاکستان میں سیاسی استحکام نہیں، دنیا ہمارے ساتھ کاروبارکیلئے آمادہ نہیں، دوست ممالک کو پاکستانی معیشت پر تشویش ہے،وہ پریشان ہیں پاکستان کو کیسے بچائیں۔ آئین پرعمل نہ ہواتوسیاسی عدم استحکام اوراضطراب اسی طرح برقراررہےگا۔
انہوں نے کہاہمارا آئین، قانون، پارلیمنٹ اور ادارے محفوظ نہیں،ہرادارہ دوسرےمیں مداخلت کررہا ہے،سب اپنےاستحکام کیلئےہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ ادارے اپنے دائرے میں کام کریں اور طاقتوربنیں۔ہم پارلیمان،عدالت اورفوج کومضبوط دیکھناچاہتےہیں۔ آئین ہی وہ عمرانی معاہدہ ہے جس نے ملک کوجوڑاہواہے۔