جسٹس فائزعیسیٰ ایکبارپھراعلیٰ مقام پرفائز

Justice Qazi Faez Isa Pakistan

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ کےدس رکنی لارجربنچ نےچھ چارکی اکثریت سےقاضی فائزعیسیٰ اورانکی اہلیہ سرینہ عیسیٰ کی نظرثانی کی درخواستیں قبول کرنےکافیصلہ سنادیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس امین الدین خان شام تھے۔

مختصرتحریری حکم نامے کے مطابق محترمہ سریناعیسیٰ کےٹیکس معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایف بی آرکی تحقیقات کوبھی کالعدم قراردےدیاگیا۔

تحریری فیصلےکےمطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی انفرادی درخواست خارج کی تاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے دیگرتمام نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے اضافی نوٹ میں تحریرکیاکہ 19جون اور23 اکتوبر 2020 کے سپریم کورٹ کےفیصلوں پر تحقیقات غیر قانونی ہیں، ایف بی آر کے تمام اقدامات، تحقیقات، رپورٹس غیرقانونی قرار دی جاتی ہیں۔

تحریری حکم نامے میں مزیدیہ کہا گیا ہے کہ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی نہیں کرسکتی۔

اکثریتی فیصلے کےمطابق سپریم کورٹ کا 19جون 2020 کا مختصر فیصلہ خارج کیا جاتا ہےاوراس فیصلےکے بعد کی تمام تحقیقات کالعدم قراردی جاتی ہیں۔

تحریری فیصلے کے مطابق بنچ کےسربراہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

تحریری فیصلہ میں لکھاگیا ہےکہ ایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد، فیصلہ اوراقدامات قانون کے دائرے سے خارج قراردئیےجاتےہیں، ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پر سپریم جوڈیشل کونسل یا کوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا۔

یہ بھی چیک کریں

Election Commission Pakistan

الیکٹرانک ووٹنگ مشین پرایک اورعدم اعتماد

ویب ڈیسک ۔۔ مسلم لیگ ن کےبعدالیکشن کمیشن نےبھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےاستعمال پراپنےتحفظات سےحکومت …