تاریخ: 9 جولائی 2025 | نیو میکرز ویب ڈیسک
راجستھان کے ضلع چورو کے قریب بدھ کے روز بھارتی فضائیہ (IAF) کا ایک جیگوار ٹرینر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،حادثےمیں طیارہ اڑانےوالاپائلٹ اورمعاون پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ یہ رواں سال مارچ کےبعد سے اس نوعیت کا تیسرا حادثہ ہےجس میں دوانجن والا بمبارطیارہ حادثےکاشکارہوکرتباہ ہواہے۔
جیگوارکیسےتباہ ہوا؟
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق جیگوار ایک "انتہائی محفوظ” سمجھا جانے والا جڑواں انجن رکھنےوالاایک بہترین لڑاکا طیارہ ہےلیکن یہ یہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا، اس کا تعین صرف کورٹ آف انکوائری ہی کرے گی۔
IAF کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیانے اس معاملے پر سابق فضائی افسران، پائلٹس اور ایوی ایشن ماہرین سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی، حادثے کی اصل وجہ کاتعین کرناممکن نہیں۔
جیگوارطیارےکب بھارتی فضائیہ کاحصہ بنے؟
جیگوار طیاروں کو بھارتی فضائیہ میں پہلی مرتبہ 1979 میں شامل کیا گیا تھا، جن میں ابتدائی بیچ کے طیارے براہ راست برطانیہ سے فلائی اوے کنڈیشن میں آئے تھے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے یہ طیارے بھارتی فضائیہ کا ایک اہم اثاثہ سمجھے جاتے ہیں۔
جیگوارطیارےکوپیش آنےوالےحالیہ حادثات
اس سےپہلے7 مارچ کو بھی ایک جیگوار طیارہ امبالہ ایئربیس سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد سسٹم خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ خوش قسمتی سے پائلٹ نے طیارے کو رہائشی علاقے سے دور لے جا کر خود کو بحفاظت نکال لیا تھا۔
2 اپریل کو ایک اور جیگوار طیارہ گجرات میں جام نگر ایئرفورس اسٹیشن کے قریب ایک گاؤں میں تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارہ تربیتی مشن پر تھا۔ اس حادثے میں ایک پائلٹ جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا تھا۔
جیگوار ایک برطانوی-فرانسیسی لڑاکا طیارہ ہے جسے ابتدائی طور پر برطانوی رائل ایئر فورس اور فرانسیسی ایئر فورس میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس طیارے کی پہلی پرواز 8 ستمبر 1968 کو ہوئی تھی اور بھارتی فضائیہ میں اسے 1970 کی دہائی کے آخر میں شامل کیا گیا۔