Home / پری زادکےمداح امیروں سےناراض

پری زادکےمداح امیروں سےناراض

Last episode of Drama Parizad

ہم ٹی وی کےمقبول عام ڈرامےپری زادکی آخری قسط کومداحوں کی بڑی تعدادنےسینماگھروں میں جاکردیکھا۔ہم ٹی وی کی سکرین پراس ڈرامےکی آخری قسط منگل یکم فروری کےروزنشرکی جائےگی۔

منفردڈرامہ پری زاد اپنی کاسٹ اورمضبوط کہانی کی وجہ سےپہلی قسط سے ہی شائقین کےدل جیت چکاہےاوراس ڈرامےکی مقبولیت میں اضافہ ہی ہواہے،کمی نہیں ۔

سنیما گھروں میں جاکرپری زادکی آخری قسط دیکھنےوالےمداحوں نے ٹوئٹر پرڈرامے کا آخری سین پوسٹ کیا ہے۔ پریزاد آرجےاینی سے ملےاورخوش قسمتی سےڈرامےمیں ان کی موت نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیاصارفین نےسینماگھروں کوجانےوالوں پرتنقیدکرتےہوکہاہےکہ امیروں نےسینماوں میں پری زادکی آخری قسط دیکھ لی اورپھراس کاسین ٹویٹرپرپوسٹ کرکےہماراسسپنس ختم کردیاہے۔

پری زادایک ایسے نوجوان کی کہانی ہےجس کارنگ انتہائی کالاہےاوراسی وجہ سےیہ معاشرہ اسےکبھی قبول نہیں کرتا،پری زادکوزندگی کے ہرقدم پردھتکارا جاتاہے۔پری زاد میں معاشرے کے ان پہلوؤں اورافراد کی عکاسی کی گئی ہے جنھیں ہمارے لوگ آسانی سے قبول نہیں کرتے۔

ایک تویہ ڈرامہ اپنی منفردکہانی کی وجہ سےمقبولیت کی بلندیوں کوچھورہاہے،دوسرےاس ڈرامےمیں پری زادکاکرداراداکرنےوالےاحمدعلی اکبرنےاپنی شانداراورجانداراداکاری سےاس ڈرامےکوچارچاندلگادئیےہیں۔ پری زادمیں احمدعلی اکبرکےعلاوہ ، نعمان اعجاز، زاویار نعمان، اسرار احمد، اشنا شاہ، نتاشا حسین، سیفی حسن اور صوفیہ مرزانےاداکاری کےجوہردکھائےہیں۔

واضح رہےکہ ڈرامہ سیریل پری زادہاشم ندیم کے ناول پرمبنی ہےڈرامہ ہے۔

سینماگھروں میں جانےوالوں نےتوپری زادکی آخری قسط دیکھ لی لیکن اب شائقین کوشدت سےمنگل کاانتظارہےتاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ کیا پری زاد کے نصیب کی سیاہی عینی کی محبت سے دھل سکے گی؟ کیا وہ ایک نظر جس میں کوئی، طنز، حقارت، تمسخر یا نفرت نہ ہو، پری زاد کا مقدر بن سکے گی؟

یہ بھی چیک کریں

freddy 2022 review

فریڈی: 2022کی بیسٹ کرائم تھرلرفلم

کہتےہیں مجرم ماں کےپیٹ سےپیدانہیں ہوتے ۔۔ حالات انہیں جنم دیتےہیں۔ بہت سےلوگ اس سےمتفق …