Home / پاکستان میں ٹیکس فائلربننےکےفائدے

پاکستان میں ٹیکس فائلربننےکےفائدے

Benefits of becoming tax filer in Pakistan

ویب ڈیسک ۔۔ بائیس کروڑافرادپرمشتمل پاکستان کی آبادی کابڑا حصہ ملازمت یاپھرکاروبارسےوابستہ ہے۔ وطن عزیزمیں لاکھوں کام کرنےوالےاورپیشہ ورکاروباری افرادکےباوجودٹیکس دینےوالوں کی تعدادخطرناک حدتک کم ہے۔

بڑامنطقی سوال ہےکہ ہم لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟اس سوال کامیرےنزدیک جوجواب ہےوہ ہےہماری لاعلمی اورناسمجھی۔ حالانکہ ٹیکس فائلر ہونے کے بے شمار فوائد ہیں جن کےبارےمیں ہم میں سے زیادہ ترسیلف ایمپلائڈ اور تنخواہ دارافرادنہیں جانتے۔

ٹیکس دہندگان سےحاصل ہونے والےپیسےریاست کی معیشت کے لیے آمدنی کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہیں۔ ہر پاکستانی شہری کا فرض بنتاہے کہ وہ اپنےاثاثوں پرعائد ٹیکس ادا کرے۔

حکومت پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکس نادہندگان کو سزا دینےاورپاکستان میں ٹیکس فائلرزکو مراعات دینےجیسی سنجیدہ کوششیں مشترکہ طورپرکی جارہی ہیں۔

تنخواہ دار اور کاروباری افراد کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کو لازمی قرار دینے کے بعد، ایف بی آرنے لوگوں کو خطوط بھیجنا شروع کر دیے ہیں جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیشنل ٹیکس نمبر کے لیے رجسٹرہوں اوراپنے نام ایکٹو ٹیکس پیئرزلسٹ (اے ٹی ایل) میں شامل کروائیں۔

کون ٹیکس اداکرنےکااہل ہے؟

پاکستان کے ٹیکس قانون کی روشنی میں، 4 لاکھ یا اس سے زیادہ سالانہ آمدنی رکھنےوالے تمام افراد کو سالانہ بنیادوں پر اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے ہوں گے۔

قومی ٹیکس نمبر، جسے عام طور پر این ٹی این کے نام سے جانا جاتا ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے ہر ٹیکس دہندہ کو الاٹ کیا جانے والا ایک خاص نمبر ہے۔ اس طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) آپ کو فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل کرلیتاہے۔

اےٹی ایل میں اپنا نام شامل کرنے کے بعدآپ کو مالیاتی لین دین پرنان فائلرزسےکم ٹیکس اداکرنےکااستحقاق ملےگاجس میں مختلف قسم کےبینک ٹرانزیکشنز،جائیداد اورگاڑی کی فروخت/خریداری وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس فائلربننےکےفوائد
پاکستان میں اگرآپ ٹیکس فائلرہیں توآپ کومندرجہ ذیل فوائدحاصل ہونگے:

ٹیکس دہندگان کو نان فائلرز کے ادا کردہ ٹیکس کے مقابلے میں صرف نصف ود ہولڈنگ ٹیکس اداکرنا ہوتاہے۔

نان فائلر کو 50 لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیداد رکھنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ جو لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں وہ کوئی بھی پراپرٹی خرید سکتے ہیں۔

خام مال کے نان فائلر درآمد کنندگان کو کل درآمد پر8 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ ٹیکس ادا کرنے والے درآمد کنندگان خام مال کی درآمد پر 5.5 فیصد ادا کرتےہیں ۔

پاکستان میں نان فائلر ایکسپورٹرز کے لیے کمرشل ایکسپورٹ پر9فیصد ڈیوٹی کی ادائیگی لاگوہے۔ دوسری طرف، ٹیکس دہندگان کو اپنی تجارتی برآمدات پر صرف 6 فیصد ڈیوٹی ادا کرناہوتی ہے۔

ٹیکس فائلرزکےلیےمقرر کردہ 15% ٹیکس کی شرح کے مقابلے نان فائلرز کے ڈیویڈنڈ (کمپنی کے منافع) پر کل 20فیصد ٹیکس واجب الادا ہے۔

بینکوں اور سیونگ سکیموں کے منافع پر لگائے جانے والے ٹیکس کی بات کریں توایک نان فائلر کو پاکستان میں فعال ٹیکس دہندگان کے ادا کردہ 10% ٹیکس کے مقابلے میں 15% ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

ٹیکس فائلرز پرائز بانڈ کے ذریعے انعامی رقم جیتنے پر صرف 15فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں جب کہ نان فائلرزاس مدمیں 25%ٹیکس اداکرتےہیں ۔

جو لوگ باقاعدگی سے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں ان پرجائیداد کی منتقلی پرصرف 1% ٹیکس ہوتا ہے جبکہ جائیداد کے مالکان جو نان فائلرز ہیں ان کی طرف سے 2% ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔

چاہے یہ حکومت کی طرف سے نیلامی ہو یا کوئی اور نجی ادارہ، ٹیکس فائلرز پاکستان میں نان فائلرز کے ادا کردہ 15 فیصد ٹیکس کے مقابلے میں صرف 10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

Real estate dealers registration

ایف بی آرکاٹریک اینڈٹریس سسٹم؟

ویب ڈیسک ۔۔ فیڈرل بورڈآف ریونیونےچینی سیکٹرکیلئےٹریک اینڈٹریس نظام کاافتتاح کردیاہے۔ ایف بی آرکےمطابق ٹریک …