مصدقہ کیسز
() 0
اموات
() 0
صحتیاب مریض
0
فعال کیسز
0
Last updated: اکتوبر 6, 2022 - 5:59 صبح (+05:00) دوسرے ممالک
Home / ترک عرب دوریاں ختم،صدراردوان کابڑافیصلہ

ترک عرب دوریاں ختم،صدراردوان کابڑافیصلہ

Turk President visit UAE

ترک صدر رجب طیب اردگان پیرکو تقریباً ایک دہائی کےوقفےسےمتحدہ عرب امارات کےدورےپرپہنچے۔ ان کےدورےکامقصدعلاقائی تنازعات کاخاتمہ کرکےطویل عرصے سے کشیدہ تعلقات کو بحال کرناہے۔

یواےای روانگی سےپہلےاستنبول ائرپورٹ پرمیڈیاسےبات کرتےہوئےصدراردگان کہناتھاکہ اس سفرنےترکی اورعرب امارات کےدرمیان تعلقات کےنئےدورکاآغازکیاہے۔ ہم تعلقات کوواپس اس سطح پرلاناچاہیں گےجہاں کےوہ مستحق ہیں ۔

ترکی اورتیل کی دولت سے مالا مال عرب امارات کےتعلقات میں خرابی لیبیا کی خانہ جنگی میں مخالف فریقوں کی حمایت اور مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی تلاش جیسےمعاملات کے باعث پیداہوئی ۔ ماضی میں انقرہ ایک سے زیادہ مرتبہ ابوظہبی پر کرد ملیشیا کی حمایت کا الزام بھی عائد کر چکا ہے۔ ترکی نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شمالی شام، یونان، قبرص اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد بنا کر کرد ملیشیا کو پیسہ اور ہتھیار فراہم کرتا ہے۔

2017میں سعودی عرب، امارات اور بحرین کی طرف سےقطر کےاقتصادی وسفارتی بائیکاٹ کےبعدترکی اورعرب ممالک کےتعلقات میں مزیدکشیدگی آگئی کیونکہ قطراورترکی قریبی اتحادی سمجھےجاتےہیں۔

عرب امارات کےولی عہدکےمطابق ان کاملک اورترکی ملکرمشترکہ چیلنجوں کاسامناکرنےکیلئےتیارہیں۔

ترک خبررساں ادارےانادولو کےمطابق اس دورےکےدوران دونوں ممالک کےدرمیان دفاع، تجارت، ماحولیاتی تبدیلی صنعت اورمیعشت سے متعلق اربوں ڈالر کے13 معاہدےکئےگئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کےمطابق ترکی اورمتحدہ عرب امارات کےدرمیان تعلقات کی بحالی کازیادہ فائدہ ترکی کوپہنچےگاکیونکہ اس وقت تعلقات کی بحالی کی سب سےزیادہ ترکی ہی کوہے،جوان دنوں شدیداقتصادی بحران کاشکارہےاورجہاں مہنگائی کی شرح 20سال کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہےاورترک صدراردوان اپنےاگلےالیکشن میں ان بحرانوں کےساتھ داخل نہیں ہوناچاہتے۔

ایسےمیں ترک صدرخطےکےمسائل کےحل کیلئےاپنےملک کوایک قابل قبول فریق کےطورپرمنوانےکیلئےکوشاں ہیں تاکہ خودترکی کودرپیش مسائل کےحل کیلئےراستےکھولےجائیں ۔

یادرہےکہ متحدہ عرب امارات نےترکی میں 10ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کااعلان کیاہے۔ خیال کیاجارہاہےکہ یہ سرمایہ کاری ترکی کےموجودہ اقتصادی بحران کی شدت کوکم کرنےمیں مدددےگی ۔

متحدہ عرب امارات اور ترکی کے مرکزی بینکوں نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ انھوں نے تقریباً پانچ بلین ڈالر کا مشترکہ کرنسی ایکسچینج کا معاہدہ کیا ہے، جو انقرہ کو درپیش اقتصادی مشکلات میں مدد کا ایک ممکنہ ذریعہ فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے مطابق تین سال کیلئےکئےگئےاس معاہدےمیں توسیع کا امکان بھی ہے۔

واضح رہےکہ صرف عرب امارات نہیں بلکہ ترکی ان دنوں اسرائیل کےساتھ بھی اپنےتعلقات کی بحالی کیلئےکوشاں ہےاورتوقع ہےکہ اسرائیلی صدراگلےماہ ترکی کادورہ کرینگے۔

صدر اردوغان کے دفترکےمطابق ترک صدررواں ماہ کے آخر میں سعودی عرب کا بھی دورہ کرنے والے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پوری عرب دنیاسےترکی کےتعلقات بحال کرناچاہتےہیں ۔

سیاسی پنڈتوں کاکہناہےکہ ترکی اورعرب امارات اپنےتعلقات بحال کرنےمیں سنجیدہ ہوسکتےہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ تعلقات کی بحالی کی کتنی سیاسی قیمت اداکرینگےکیونکہ دونوں ممالک کےدرمیان شام،لیبیا،یمن،ایران کولیکربہت سےاختلافات ہیں۔

ان جیسےبہت سےسوالات کےجواب ہمیں مستقبل قریب میں مل جائیں گےتاہم عرب ملکوں اورترکی کےدرمیان تعلقات کی بحالی اگرخطےمیں امن و استحکام اورعوام کی خوشحالی پرمنتج ہوتی ہےتواس سےبڑھ کراچھی بات کوئی نہیں ہوسکتی ۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

SC throws Hamza Shehbaz

دوسروالاانصاف ۔۔

بہت زیادہ غیرجانبدارہوکربھی سوچتاہوں توسمجھ نہیں آتاکہ وہ کون ساغصہ ،بغض یاعنادہےجوادارےمسلم لیگ ن اوراس …