مصدقہ کیسز
() 0
اموات
() 0
صحتیاب مریض
0
فعال کیسز
0
Last updated: اکتوبر 6, 2022 - 6:49 صبح (+05:00) دوسرے ممالک
Home / پب جی ایک گیم سےخونی کھیل کیسےبنتی ہے؟

پب جی ایک گیم سےخونی کھیل کیسےبنتی ہے؟

How PUBG affects human brain?

آپ اسےمحض اتفاق سمجھیں یاکچھ بھی کہیں ، لیکن یہ بات سچ ہےکہ ویڈیوشئیرنگ ایپ ٹک ٹاک اورپب جی گیم کےحوالےسےاکثربری خبریں سننےکوملتی رہتی ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ خراب کون ہے ۔۔ ٹک ٹاک ، پب جی یاپھرانہیں استعمال کرنےوالے؟

آپ نےاکثرخبریں سنی ، دیکھی اورپڑھی ہونگی کہ ٹک ٹاک کیلئےویڈیوبناتےہوئےنوجوان پہاڑی سےگرکرجاں بحق ، ٹک ٹاک بناتےہوئےنوجوان ٹرین تلےآگیا،ٹک ٹاک کیلئےلی جانےوالی خطرناک سیلفی خاتون کی جان لےگئی وغیرہ وغیرہ اورمینارپاکستان لاہورکےگریٹراقبال پارک میں یوم آزادی پرٹک ٹاکرخاتون کےساتھ جوہوا،وہ بھی ہمارےحافظےمیں محفوظ ہے۔

اسی طرح پب جی گیم کےبارےمیں بھی دلخراش خبریں معمول کی بات بن چکی ہے،لیکن یہاں معاملہ ٹک ٹاک سےتھوڑامختلف ہےاورزیادہ بھیانک دکھائی دیتاہے۔ ایسااس لئےچونکہ آن لائن گیم پب جی کےبارےمیں یہ کہاجائےکہ یہ خونی کھیل بن چکاہےتوبےجانہ ہوگا۔

پلئیرزان نون بیٹل گراونڈ یعنی پب جی کو 2016میں کرافٹن نامی کمپنی کی ایک ذیلی کمپنی پب جی کارپوریشن نےڈویلپ اورشائع کیاہے۔ قتل وغارت پرمبنی یہ گیم بیک وقت بہت سےکھلاڑی آن لائن کھیلتےہیں۔

عجیب بات ہےکہ ورچوئل یعنی غیرحقیقی دنیامیں ماردھاڑاورقتل وغارت پرمبنی یہ گیم حقیقی زندگی میں اب تک پاکستان سمیت دنیابھرمیں درجنوں لوگوں کی جانیں لےچکی ہے۔

پب جی گیم میں ایک سےچارافرادکی ٹیم جہازسےکودکرجزیرےپر اترتےہیں اوراپنے دشمنوں کومارنے کے لئےہتھیارجمع کرتےہیں۔ سروائیول آف دی فٹسٹ کےاصول پرکھیلی جانےوالی اس گیم میں زندہ رہنے کےلئےمجبوراً ایک دوسرےکومارنا پڑتاہے اورآخرمیں بچ جانے والافاتح قرارپاتاہے۔ بےانتہاسٹرانگ وژیول اینڈساونڈایفٹکس کےساتھ یہ گیم آہستہ آہستہ کھیلنےوالوں پرایسانشہ طاری کردیتی ہےکہ پھروہ جب تک اسےکھیل نہ لیں انہیں کسی صورت چین نہیں پڑتا۔ اسی لئےکہاجاتاہےکہ پب جی کو مسلسل کھیلنےوالےذہنی مریض بن کرحقیقی زندگی میں بھی قتل وغارت سےنہیں چوکتے۔

اس بات کاثبوت ہمیں اوربہت سےواقعات کےعلاوہ لاہورکےعلاقےکاہنہ میں 19جنوری کوہونےوالی ایک خونی واردات سےبھی ملتاہے،جس میں محض 14سال کےلڑکے نےپب جی گیم کھیلنےاورآئس نشہ کرنےسےروکنےپراپنی لیڈی ڈاکٹرماں اور3بہن بھائیوں کوگولیوں سےچھلنی کرکےمارڈالا۔

ماہرین نفسیات کاکہناہےکہ پب جی کھیلنےوالااورآئس کانشہ کرنےوالادونوں نصیحت کرنےوالوں کواپنادشمن سمجھنےلگتےہیں اورانہیں مارنےسےبھی نہیں چوکتے۔ ڈاکٹرزکےمطابق پب جی مسلسل کھیلنےسےانسانی دماغ میں ایسی کیمیکل تبدیلیاں رونماہوتی ہیں جوبروقت علاج نہ ہونےپرباقاعدہ مرض کی شکل اختیارکرلیتی ہیں اوریہ مرض مریض کےعلاوہ دوسرےلوگوں کیلئےبھی جان لیواثابت ہوسکتاہے۔

اسی طرح کےایک اورکیس میں نواں کوٹ سکندریہ کالونی میں پب جی گیم کھیلنےکےشوقین ملزم بلال نےمنع کرنےپرفائرنگ کر کےبھائی، بھابی بہن اوردوست کومارڈالاتھا۔

اسی لئےماہرین کاکہناہےکہ بچوں کوگیجٹ کےحوالےکرکےاپنی اپنی زندگی میں گم ہوجانےوالےوالدین کواکثرخرابی کااس وقت پتاچلتاہےجب وقت گزرچکاہوتاہے۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

SC throws Hamza Shehbaz

دوسروالاانصاف ۔۔

بہت زیادہ غیرجانبدارہوکربھی سوچتاہوں توسمجھ نہیں آتاکہ وہ کون ساغصہ ،بغض یاعنادہےجوادارےمسلم لیگ ن اوراس …