Home / گدھےاورحلال جانورکےگوشت میں فرق کیسےکریں؟

گدھےاورحلال جانورکےگوشت میں فرق کیسےکریں؟

Donkey and Halal meat difference

لاہوریوں کےبارےمیں سب جانتےہیں کہ یہ کھابوں کےشوقین ہیں اورکھابوں پرہاتھ صاف کرتےہوئےان کی آنکھیں بنداورمنہ کھل جاتےہیں،یہی وجہ ہےکہ وہ ٹھیک سے،یہ بھی نہیں دیکھ پاتےکہ انہیں کھلایاکیاجارہاہے؟

کھابوں سےلاہوریوں کی اسی رغبت کاکچھ لوگوں نےناجائزفائدہ بھی بہت اٹھایاہےاورانہیں وہ وہ کچھ کھلادیاہےکہ جس کےبارےمیں سوچ کربھی ابکائی آجائے۔

کچھ عرصہ پہلےلاہورشہرمیں فوڈاتھارٹی کی جانب سےکی جانےکارروائیوں کےنتیجےمیں جس بڑی تعدادمیں گدھےکاگوشت برآمدہوا،اسےسامنےرکھتےہوئےلاہورمیں رہنےوالاشایدہی کوئی شخص ایساہو،جویہ دعویٰ کرسکےکہ اس نےڈونکی راجہ کامزہ نہیں چکھا۔

ہم میں سےکس کس نےگدھےکاگوشت کھایاہےیہ پتاچلانےکاکوئی سائنسی پیمانہ تومیسرنہیں ۔۔لیکن اگرکسی کوریسٹورنٹ سےکھاناکھانےکےبعدرات کوخواب میں گدھانظرآئےتوسمجھ لےکہ مقتول اپنےقاتل سےخون کاحساب لینےآیاتھا۔

ایکسپریس ٹریبیوں کی اپریل 2017 کی ایک رپورٹ کےمطابق لاہور میں گدھے کے گوشت کی فروخت کی اطلاعات کے بعد، کراچی پولیس نےگلستان جوہرمیں ایک دکان سےگدھوں کی 4000 سے زائد کھالیں برآمدکیں۔

پولیس کےمطابق پاکستان سےگدھےکی کھالیں چین کوبرآمدکی جاتی ہیں جنہیں وہاں دواوں میں استعمال کیاجاتاہے،لیکن سوچنےکی بات ہےکہ گدھےکی کھال توچلی گئی چائنہ ،لیکن اس کاگوشت کہاں گیا؟ اس حوالےسےپولیس اوردیگرمتعلقہ اداروں کی اب تک ہونےوالی تحقیقات کےمطابق پاکستان کادل لاہورگدھےکےگوشت کی فروخت کامرکزہے۔

لاہور پولیس نےماضی میں متعدد غیرقانونی مذبح خانوں پر بھی چھاپے مارےلیکن ذرائع کےمطابق یہ کام اب بھی جاری وساری ہے۔ کراچی پولیس کےدعوےکےمطابق لاہورکےشہری ان گدھوں کا گوشت کھا رہے ہیں جن کی کھالیں کراچی سےبرآمدہوئی ہیں۔

کراچی پولیس نےگدھےکی کھالوں کی فروخت میں ملوث گینگ سےتفتیش کی توانہوں نےبتایاکہ پہلےوہ ملک بھرسےبیمارگدھےخریدکران کی کھالیں چین بھیجتےتھےلیکن بعدمیں انہیں پتاچلاکہ گدھےکی گوشت کی ڈیمانڈہےتوانہوں نےاس کاگوشت مارکیٹ میں فروخت کرناشروع کردیا۔

یہ تومحض ایک خبرہےلیکن اگرآپ ڈھونڈیں گےتوایسی سیکڑوں خبریں آپ کومل جائیں گے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہےکہ اگرواقعی مارکیٹ میں گدھےکاگوشت بک رہاہےتواس کی پہچان کیاہے؟ کیاگدھےاورحلال جانورکےگوشت میں فرق کیاجاسکتاہے؟ انہی سوالات کاجواب جاننےکیلئےجب ہم نےایک غذائی ماہرسےبات کی توانہوں نےشناخت چھپانےکی شرط پربتایاکہ انسانی آنکھ سےگدھےاورکسی دوسرےجانورکےگوشت میں فرق کرنابہت مشکل ہے۔ ایساصرف لیب ٹیسٹ سےہی ممکن ہے۔ عوام سےالبتہ گزارش ہےکہ جب بھی گوشت خریدیں کسی معروف اورپرانی دکان سےخریدیں ۔ اسی طرح کسی ریسٹورنٹ پرجانےکاارادہ ہوتوکوشش کریں ایسی جگہ سےکھاناکھائیں جس کےبارےمیں آپ جانتےہوں۔ غیرمعروف ڈھابوں اورریسٹورنٹ سےکھاناکھانےسےگریزکریں۔

اسی موضوع پرجب ہم نےلاہورکےشہریوں سےبات کی توان کاکیاکہناتھاکہ لاوہرجیسےشہرمیں گدھےکاگوشت بکناکوئی حیرانگی کی بات نہیں، ماضی میں ایسےگروہ پکڑےجاچکےہیں۔ حکومت کوچاہیےکہ ایسےایمان فروش لوگوں کےخلاف سخت قانونی کارروائی کرےتاکہ آئندہ کسی کوایساکرنےکی جرآت نہ ہو۔

آخرمیں لاہوریوں کیلئےہماراپیغام بس یہی ہےکہ جی بھرکےکھائیں لیکن اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گدھوں سے،خاص طورپران کےگوشت سےمحفوظ رکھے،آمین۔

اس مضمون پرمیرےوی لاگ کالنک درج ذیل ہے:

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

SC throws Hamza Shehbaz

دوسروالاانصاف ۔۔

بہت زیادہ غیرجانبدارہوکربھی سوچتاہوں توسمجھ نہیں آتاکہ وہ کون ساغصہ ،بغض یاعنادہےجوادارےمسلم لیگ ن اوراس …