Home / ہوشیار۔۔ سائبرحملوں سےبڑاخطرہ

ہوشیار۔۔ سائبرحملوں سےبڑاخطرہ

سائبرحملوں میں اضافےکےساتھ ایک نئی اورزیادہ خطرناک شےہمیں نشانہ بنانےآرہی ہےاورزیادہ تشویش کی بات یہ ہےکہ اس خطرےکابروقت پتالگانابہت مشکل ہے۔

ٹیکنالوجی میگزین میں شائع ہونےوالےآرٹیکل کےمطابق 2022بلاشبہ تاوان گردی اورسائبر حملوں کےحوالےسےایک اورخطرناک سال ثابت ہوگا،جس میں لگتاہےکہ سائبرحملہ آورآرام کرنےکاکوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

ہم جس نئےخطرےکی بات کررہےہیں ماہرین نےاسے”مخالف مصنوعی ذہانت”کانام دیاہےاوراسی خطرےکابروقت پتاچلانےاوراس کامقابلہ کرنےکیلئےہمیں خودکوتیارکرنےکی ضرورت ہے۔

مصنوعی ذہانت اس وقت دنیامیں سب سےزیادہ جدیداورسب سےزیادہ تیزی سےترقی کرنےوالی ٹیکنالوجی ہےاوردنیاکی بڑی بڑی نامی گرامی کمپنیاں اورکاروبارکووسعت دینےکیلئےاس کاسہارالینےپرمجبورہیں۔

زیادہ ترادارےاپنےاستعمال کے زیادہ تر معاملات میں مصنوعی ذہانت کےایک ٹول مشین لرننگ کوہیکنگ کےخلاف اوراپنےدفاع میں استعمال کرتےہیں۔

مخالف مصنوعی ذہانت آخرہےکیا؟

مخالف مصنوعی ذہانت سائبرحملوں کویقینی بنانےکیلئےمشین لرننگ اورمصنوعی ذہانت کی تجزیاتی اورفیصلہ سازی کی طاقت پرغلبہ حاصل کرلیتی ہے۔ سائبرحملوں کایہ وہ طریقہ ہےجواس سےپہلےناممکن تھا۔

یہ کسی بھی ادارےیاآرگنائزیشن کے نیٹ ورک کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتےہوئےاسےاپنےخطرناک ہونےیاآنےوالےسائبرحملےکااحساس ہی نہیں ہونےدیتااوراسی وجہ سسٹم میں اس کی موجودگی اورنقل وحرکت کابروقت پتاہی نہیں چل پاتا۔

اس تمام کارروائی نتیجہ یہ نکلتاہےکہ سائبرحملہ آورکےبھیجےگئےبرےڈیٹا سیٹس کوسسٹم ری کلاسیفائی کرکےانہیں اچھابناکرپیش کرتاہےاورسسٹم کےاچھےڈیٹاکوبرابناکرپیش کردیتاہے۔ اس عمل کےبعدہیکرزکیلئےمشین لرننگ پر مبنی سیکیورٹی سلوشنزکوجل دیکرنقصان دہ پروگراموں کواداروں کےسسٹم میں بھیجنابہت آسان ہوجاتاہے۔

مخالف مصنوعی ذہانت کوکیسےروکاجائے؟

مخالفانہ مصنوعی ذہانت کاخطرہ صرف آنے والے سالوں میں بڑھے گا، اوراداروں کو اس حقیقی خطرے کے بارے میں لاپروانہیں ہونا چاہیےجوان پرحملہ آورہوکربڑےنقصان کاباعث بن سکتاہے۔

بہت عرصے سے اس بات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے کہ ایک بار جب آپ کا کاروبارحملےکی زدمیں آجائےتو کیا کرناچاہیے؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ان جیسےحملوں کابروقت پتاچلانےاورانہیں نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے سےروکنےکاکوئی بندوبست کرلیاجائے؟

کسی ہیکر کو تباہی پھیلانے کا موقع ملنے سے پہلے اسے روکنے کی صلاحیت اب کوئی خواب نہیں رہا۔ یہ ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئےباآسانی کیا جا سکتا ہے۔ اس انتہائی نفیس طریقے سے نیورل نیٹ ورک تخلیق کیے جاتے ہیں، جو انسانی دماغ کی نقل کرتے ہیں۔ اس طرح، یہ روایتی مشین لرننگ کے برعکس زیادہ پیچیدہ، اعلیٰ جہتی نمونوں کی شناخت کر سکتا ہے اور زیادہ لچکدارہوسکتا ہے۔

ڈیپ لرننگ تکنیک اس قسم کےسائبرحملوں سےآگےنکل کرانہیں روکنےاورماڈلزکی لیبلنگ کرتبدیل کرنےکی کوششوں کےخلاف مزاحمت کرتی ہے۔

سرکاری اداروں کی جانب سےخودپرآنےوالےدباوکوکم کرنےکیلئےیہ سائبرمجرم سرکاری حکام اوراداروں سےایک قدم آگےرہتےہوئےاپنےمذموم عزائم کوعملی جامہ پہنانےکیلئےجدیدسےجدیدطریقےاختیارکریں گے۔

اس لیے ہمیں 2022 کو سائبر تبدیلی کا سال بنانے کی ضرورت ہے۔ اداروں کیلئے ایسا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ ان سائبرحملوں کوروکنےکیلئےکوئی ٹھوس اورجدیدحل تلاش کریں۔ وہ محض ان حملوں کی روک تھام اورہونےکےبعدردعمل دینےپرہی دھیان نہ دیں بلکہ اس سےآگےبڑھ کرکچھ ایساکریں کہ سائبرمجرمان اس قسم کےحملےکرہی نہ کرپائیں۔

ہم سب اس اجتماعی خطرےکےخلاف ایک ہوکرکوشش کرنے کی ضرورت ہےتاکہ ہم اپنےاتحادکی قوت سےان سائبر مخالفوں کوواضح شکست دےسکیں۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

twitter miltdown

ٹویٹرختم ہونےجارہاہے؟اندرکی باتیں باہرآگئیں

ایلون مسک کےٹویٹرکاچارج سنبھالتےہی جیسےایک بھونچال آگیاہےجوسنبھلنےکانام نہیں لےرہا۔ ایک کےبعدایک مسئلہ ملازمین اورمنیجمنٹ کیلئےدردسربناہواہے۔ …