ویب ڈیسک: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیاجائےگا۔
آئی ایس پی آرکے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرزراولپنڈی میں آرمی چیف کی زیرصدارت کورکمانڈرزکانفرنس منعقد ہوئی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، پاک،بھارت کشیدگی، اوربھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیوں پرتفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
فورم نے ملک کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کےدفاع کےغیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بھارتی مظالم، خاص طور پر غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بار بار خود ساختہ بحران گھڑ کر سیاسی و عسکری مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں، جیسے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے لیے پلوامہ واقعے کو جواز بنایا گیا تھا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں اور معاشی بحالی سے ہٹانے کے لیے اشتعال انگیز اقدامات کر رہا ہے، جن میں سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
فورم نے بھارتی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کا امن بھی خطرے میں ہے۔
آرمی چیف نے مسلح افواج کی تیاریوں، حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان پوری قوم کے ساتھ متحد ہیں۔ انہوں نے ہر محاذ پر چوکنا رہنے اور دفاعی تیاریوں کو مزید موثر بنانے پر زور دیا۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو بھارتی علاقے پہلگام میں ایک واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بلا جواز الزامات عائد کیے تھے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی کا عندیہ دیتے ہوئے بھارت سے سفارتی، تجارتی اور فضائی روابط معطل کر دیے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں جارحیت کی تیاری کر رہا ہے۔