Thursday, 3 September 2026 | Web Desk
پنجاب حکومت نےانسداددہشت گردی ایکٹ میں ایک متنازع شق شامل کرلی ہے۔ جس کےبعدپنجاب میں فیئرٹرائل کےتقاضوں کوسنگین خطرات لاحق ہوگئےہیں ۔ اس متنازع قانون کےتحت انسداددہشت گردی کےکسی بھی کیس کوخصوصی قراردےکراس کاخفیہ ٹرائل کیاجاسکتاہے۔
ایسےکیسوں میں کسی کوججوں کاپتاہوگا، نہ وکیلوں کااورنہ ہی تفتیشی افسران کاپتاہوگا۔ گواہوں کی شناخت ظاہرکی جائےگی نہ عدالت کےمقام سےمتعلق بتایاجائےگا۔ کیس کی پروسیڈنگزکوبھی خفیہ رکھاجاسکےگا۔ جب ملزم اوراس کےوکیل کوگواہوں اورجج کاہی نہیں پتاہوگاتوکیسےیہ فیئرٹرائل کےتقاضوں پرپورااترےگا۔
اس قانون میں یہ سب کچھ کرنےکااختیارپنجاب حکومت نے20 گریڈکےایک سرکاری افسرکودےدیاہےجسےوہ خودنامزدکرےگی۔ لیکن یہ نہیں بتایاگیاکہ 20گریڈکایہ افسرکس محکمےسےہوگااوراس کی کیااہلیت ہوگی؟
پنجاب حکومت کےپاس کردہ متنازع قانون پرسوال اٹھ رہےہیں ۔ حکومت کےنامزدکردہ بیس گریڈکےافسرکوغیرمعمولی اختیارات دینےپرسوال اٹھ رہےہیں ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کاکہناہےکہ کہیں سیاسی مخالفین اورنقادوں کونشانہ بنانےکی تیاری تونہیں کررہی ؟
نئی روش کی عدالتیں اور نرالے ہی ڈھب کے ہیں فیصلے
نہ نظیر ہے، نہ دلیل ہے ، نہ اپیل ہے، نہ وکیل ہے
دوسری جانب پنجاب حکومت کےترجمان کوثرکاظمی کاکہناہےکہ اس قانون کوبنانےکامقصددراصل گواہان کی سلامتی کویقینی بناناہےکیونکہ ہمارےہاں اکثرگواہی دینےپرگواہوں کی زندگی کوخطرات لاحق ہوجاتےہیں۔