Thursday, 22 October 2026 | Web Desk
این ایچ اے کو ٹال ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔شہریوں کاکہناہےاین ایچ اےٹیکس توہرسال بڑھادیتاہےلیکن سہولتیں دینےکی طرف اس کادھیان نہیں۔
اعداد و شمار کےمطابق، این ایچ اے نے مالی سال 2021-22 میں قومی شاہراہوں اور موٹر ویز سے 35 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد ٹال ٹیکس وصول کیا۔ مالی سال 2022-23 میں یہ آمدن کم ہو کر تقریباً 33 ارب 40 کروڑ روپے رہ گئی، 2023-24 میں مزید کمی کے بعد ٹال ٹیکس کی وصولیاں تقریباً 32 ارب 7 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم مالی سال 2024-25 میں صورتحال تبدیل ہوئی اور آمدن بڑھ کر 64 ارب 42 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی۔
اضافے کا یہ سلسلہ مالی سال 2025-26 میں بھی جاری رہا، جب این ایچ اے کی ٹال ٹیکس وصولیاں 85 ارب 71 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں۔ یعنی مالی سال 2021-22 کے مقابلے میں 2025-26 کے دوران ٹال ٹیکس کی آمدن میں تقریباً 144.5 فیصد اضافہ ہوا۔دوسرے الفاظ میں، این ایچ اے کی سالانہ ٹال ٹیکس آمدن پانچ سال کے دوران تقریباً 2.44 گنا ہو گئی۔
لاہوراسلام آبادموٹروےکی بات کی جائےتوگاڑیوں کی مختلف اقسام کیلئےٹال ٹیکس کی شرح بھی مختلف ہے۔ جیپ اور ٹیکسی کے لیے فی کلومیٹر تقریباً 3 روپے 98 پیسے ٹال ٹیکس بنتا ہے، جبکہ لاہور سے اسلام آباد تک مکمل سفر کا ٹال ٹیکس 1,430 روپے ہے۔ویگن کے لیے فی کلومیٹر ٹال ٹیکس تقریباً 6 روپے 68 پیسے مقرر ہے، جبکہ مکمل سفر پر 2,390 روپے ادا کرنا ہوتے ہیں۔ کوسٹر کے لیے فی کلومیٹر شرح 9 روپے 34 پیسے ہے اور پورے روٹ کا ٹال ٹیکس 3,350 روپے بنتا ہے۔
اسی طرح بسوں کے لیے فی کلومیٹر ٹال ٹیکس تقریباً 13 روپے 32 پیسے ہے، جبکہ لاہور سے اسلام آباد تک مکمل سفر کے لیے 4,770 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ دو یا تین ایکسل والے ٹرکوں کے لیے فی کلومیٹر شرح 17 روپے 33 پیسے ہے اور مکمل سفر پر 6,210 روپے ٹال ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ بڑے ٹریلرز اور آرٹی کیولیٹڈ ٹرکوں کے لیے فی کلومیٹر ٹال ٹیکس تقریباً 22 روپے 29 پیسے ہے، جبکہ مکمل لاہور تا اسلام آباد سفر کا ٹال ٹیکس 7,980 روپے بنتا ہے۔
ملک بھر کی دیگر موٹر ویز کے لیے یہ شرح مختلف ہیں
شہریوں کا کہنا ہے ٹیکس کے اوپر ایک روپے کی رعایت نہیں ملتی مگر سہولیات کے نام پر صرف ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔۔ موٹر ویز پر ایک بھی ٹراما سینٹر نہیں ۔