Sunday, 18 October 2026 | Web Desk
حناجاوید قتل کیس میں گرفتار گھریلو ملازم ذیشان کےوالدارشدکابیان بھی سامنےآگیا۔ انہوں نےبتایاکہ جیل میں بیٹےسےدومرتبہ ملا۔ ملاقاتوں کے دوران بیٹےکاکہناتھاکہ حنا جاوید قتل کےمعاملےمیں اس سےزبردستی سب کچھ کروایاگیا۔
محمد ارشد کے مطابق ذیشان نے بتایا کہ 20 اگست کی رات حنا جاوید اوران کےشوہرفیصل اصغرکےدرمیان جھگڑا ہوا۔ شورسن کر ذیشان بھی جاگ گیا۔ اس کے بقول حنا جاوید بھاگ رہی تھیں، جبکہ فیصل اصغراسےپکڑنےکیلئےاس کےپیچھےبھاگ رہاتھا۔ فیصل اصغر نےذیشان کوحناجاوید کو پکڑنےکیلئےلیکن زیشان نےمیاں بیوی کےجھگڑےمیں مداخلت سےانکارکردیا۔
والد کےمطابق فیصل اصغرنےذیشان پراسلحہ تان لیااورزبردستی حناجاوید کو پکڑنےپرمجبور کیا۔ محمد ارشدکےبقول ان کےبیٹےنےکہاحنا جاوید کو ان کے شوہر فیصل اصغر نے خود قتل کیا اور لاش بھی باتھ روم میں خود لٹکائی۔ ذیشان کےوالد نے الزام عائد کیا کہ دورانِ ریمانڈ ذیشان پر تشدد کرکےاس پرجرم قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور قتل کا سارا الزام اس پر ڈال دیا گیا۔
ملزم کے والد کے مطابق ذیشان حنا جاویدکواپنی ماں کی طرح سمجھتا تھا۔