Sunday, 4 October 2026 | Web Desk
حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات کسی نتیجےپرپہنچےبغیرختم ہوگئے۔
مذاکرات کے بعدرانا ثنا اللہ نےمیڈیاکوبتایاکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کرداراداکرنےکوتیارنہیں، پی ٹی آئی وفددہشتگردی کےخلاف صوبائی حکومت کےکردارکی یقین دہانی سےانکاری رہا۔
رانا ثنا نےواضح کیاکہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا،انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن اورپیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ان کے خدشات سنے، 4 مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سےانکارکردیا۔
لانگ مارچ ہمارا حق ہے، سب سے کہوں گا کہ لانگ مارچ کو نہ روکیں: بیرسٹر گوہر
دوسری جانب علامہ چیئرمین پی ٹی آئی اور اپوزیشن وفد میں شامل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، فریقین نے کل کسی سیشن کی ضرورت پر اتفاق نہیں کیالیکن اگر ضرورت پڑی تو شاید سیشن ہوجائے۔
بیرسٹر گوہر نےمزید کہا کہ ہمارا لانگ مارچ انٹیکٹ ہے،ایساکوئی اقدام نہیں ہوناچاہیےجس سےعوام میں تناؤ پیدا ہو،لانگ مارچ ہماراحق ہے،سب سےکہوں گالانگ مارچ نہ روکیں۔ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنرراج نہیں۔
راجہ ناصر عباس نےجیو نیوزسےگفتگوکرتے ہوئےبتایاکہ چھوٹی چھوٹی چیزیں تھی لیکن نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، خان صاحب کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر ڈیڈ لاک ہے، ہماری کوشش تھی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں لیکن ایسانہ ہوسکا۔
علامہ ناصر عباس نےکہاکہ دہشتگردی کے معاملےپرنیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ان کے تحفظات تھے، جن علاقوں میں آئی ڈی پیز ہیں وہاں آپریشن کے حوالے سے بھی تحفظات تھے۔ حکومتی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ عمران خان سے ملاقات کروادیں البتہ بہنوں اور وکلاء کی ملاقات شروع ہوجائے گی۔
بیرسٹرسلمان اکرم راجہ بولے بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
واضح رہےکہ آج 4اکتوبرہےاورآج کےپی حکومت نےاسلام آبادکی طرف لانگ مارچ کااعلان کررکھاہے۔