Saturday, 3 October 2026 | Web Desk
وفاقی آئینی عدالت نےمونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔۔44صفحات پرمشتمل فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا۔۔آئینی عدالت نے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نظرثانی درخواستیں منظور کرتےہوئےسپریم کورٹ کا 21 اگست 2024 کا فیصلہ کالعدم قراردےدیا۔۔
آئینی عدالت نےفیصلےمیں لکھاکہ سپریم کورٹ کا سابقہ نظرثانی فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔مونال کیس میں عدالتی اختیار کی حدود تجاوز کرنے سے سنگین ناانصافی ہوئی۔۔متاثرہ فریقین کو مؤثر سماعت کا موقع دیئے بغیر ان کے حقوق پر فیصلہ کیا گیا۔۔اعلی ترین عدالت کا فیصلہ متاثرہ افراد کو سنے بغیر محض حتمیت کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔۔سپریم کورٹ کو متعلقہ حالات میں مونال کیس کی سماعت سے گریز کرنا چاہیے تھا۔۔
عدالت نےتحریری فیصلےمیں مزیدلکھاکہ عدالتی نتائج ذاتی معلومات کے بجائے ریکارڈ، شواہد اور قانون پر مبنی ہونے چاہئیں۔ ریسٹورنٹس کو مارگلہ ہلز میں آگ لگنے کا سبب قرار دینے کا مشاہدہ شواہد سے ثابت نہیں۔تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ متنازع حقائق کا حتمی ثبوت نہیں ہوسکتی۔مارگلہ نیشنل پارک میں ریسٹورنٹس پر پابندی متعلقہ قانونی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔اصل سوال یہ ہے کہ مخصوص تعمیر یا سرگرمی نیشنل پارک کے مقصد کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں۔
مونال کی زمین کی ملکیت، لیز اور کرائے کے تنازعات شواہد کی بنیاد پر سول عدالت طے کرے گی۔وائلڈ لائف بورڈ کو کرایہ وصول کرنے کا حق دینے کی عدالتی ہدایت بھی کالعدم قرار۔