Home / آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk

آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج ہلاک اور400 سےزائد زخمی ہوگئے۔ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل تباہ جبکہ 18 چوکیوں پرپاکستانی سکیورٹی فورسزنےقبضہ کرکےقومی پرچم لہرادیا۔ ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری نےآپریشن غضب للحق کی تفصیلات میڈیاسےشیئرکرتےہوئےبتایاکہ وطن عزیزکابہادری سےدفاع کرتےہوئےپاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور27 زخمی ہوئے۔ قوم کو اپنےجوانوں پرفخر ہے۔

میڈیاکوبریفنگ دیتےہوئےڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےبتایا کہ دشمن کے115 ٹینک،بکتربند گاڑیاں اوراے پی سیز تباہ کی جاچکی ہیں۔ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے22 ٹھکانوں کونشانہ بنایا گیا۔

ترجمان پاک فوج کامزیدکہناتھا کہ ان ٹارگٹس میں افغان کور ہیڈکوارٹرز، بٹالین ہیڈکوارٹرزاوردہشتگردوں کی پناہ گاہیں شامل ہیں۔ افغان فوسز اور خوارج اپنی لاشیں تک چھوڑ کےبھاگ نکلے۔ دہشتگردوں اور انہیں پناہ دینےوالوں کوایسا جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری نےکہاکہ افغان طالبان رجیم اوردہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں ۔ یہ ناجائزسیٹ اپ تمام پراکیسزکی ماں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹننٹ جنرل احمدشریف چودھری نےمیڈیاکوبتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکربلااشتعال جارحیت کی ۔ پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی ۔ پاکستانی سکیورٹی فورسزنے تمام 53 مقامات پرافغان طالبان رجیم اورخوارج کے حملوں کونہ
صرف پسپا کیابلکہ ایسابھرپورجواب دیاجسےدنیا نے دیکھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاافغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے، پاکستان میں اگر کسی جگہ دہشت گردی، خودکش حملہ ہواتوجواب ناصرف دہشتگردوں بلکہ انہیں پناہ دینےوالوں کوبھی دیاجائےگا۔

ترجمان پاک فوج نےدوٹوک الفاظ میں کہاکہ افغانستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننا ہے، ہماری ترجیحات واضح ہیں اورہم اپنی چوائس کیلئےکسی قربانی سےدریغ نہیں کریں گے۔ ہم مشرقی اورمغربی سرحدپرچوکس کھڑےہیں، کسی کو شوق پورا کرنے ہے توکرلے۔

انہوں نے کہاہم نے آپریشن اپنے حق کے تحفظ کیلئےکیا۔ تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کوئی جگہ نہیں دی جاسکتی، نیشنل ایکشن پلان 2014 میں بنا تھا جسے ہم وژن عزم استحکام کہتے ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایت پرآپریشن غضب للحق جاری ہے، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے۔

خارجی دہشت گردوں کاحملہ، پاک فوج کےلیفٹیننٹ کرنل شہید

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاافغان طالبان رجیم نےدوحہ معاہدہ میں یہ عہدکیاتھاکہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم ماسٹرآف آل پراکسیزہے۔۔ پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔

یہ بھی چیک کریں

Lahore: tution center roof collapsed, 14 students die

لاہور: ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنےسے14بچےجاں بحق

Tuesday, 30 June 2026 | Monitoring Desk لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی …