Home / پاک فوج کوبدلےکااختیارمل گیا

پاک فوج کوبدلےکااختیارمل گیا

Pak armed forces authorized to take action

مانیٹرنگ ڈیسک — وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھارت کی حالیہ جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور پاک فوج کو ہر ممکن جوابی کارروائی کے لیے مکمل اختیار دے دیا گیا۔

اجلاس کا آغاز بھارتی حملوں میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے ایصالِ ثواب کے لیےفاتحہ اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا سے کیا گیا۔ شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا بھی اظہار کیا گیا۔

بھارتی حملوں کی شدید مذمت

قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب کیے گئے حملوں کو بزدلانہ، غیر قانونی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان حملوں میں بھارت نے میزائل، جنگی طیارے اور ڈرونز استعمال کرتے ہوئے پنجاب کے شہروں سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے، بہاولپور اور آزاد جموں و کشمیر کے مظفرآباد و کوٹلی میں شہری آبادی، مساجد اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت متعدد افراد شہید و زخمی ہوئے۔

نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کو نشانہ بنانا: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی

بھارتی فضائی حملوں میں پاکستان کے اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل نیلم-جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو واضح طور پر بین الاقوامی انسانی اور جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس حملے سے نہ صرف قومی تنصیبات کو نقصان پہنچا بلکہ خلیجی ممالک کی پروازوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے، جس سے ہزاروں مسافروں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔

بھارتی مؤقف بے نقاب

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت نے ان حملوں کا جواز مفروضہ دہشتگرد کیمپوں کی موجودگی کو بنایا، حالانکہ 6 مئی کو غیر ملکی صحافی ان علاقوں کا دورہ کر چکے تھے اور 7 مئی کو مزید دوروں کا شیڈول بھی طے تھا۔ بھارت نے بین الاقوامی انکوائری کی پاکستانی پیشکش کو رد کیا، اور شواہد کے بغیر نہتے شہریوں پر حملہ آور ہو کر اپنی جھوٹی کہانی کو بچانے کی کوشش کی۔

افواجِ پاکستان کا فوری اور مؤثر جواب

قومی سلامتی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کے پانچ جنگی طیارے اور کئی ڈرونز مار گرائے۔ تمام کارروائیاں پاکستان اور آزاد کشمیر کی فضائی حدود کے اندر رہ کر کی گئیں۔ دشمن کی طرف سے چکوٹھی سیکٹر میں سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کرنا اس جوابی کارروائی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

مکمل دفاع کا حق اور عالمی برادری سے مطالبہ

قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے، جس کا فیصلہ وقت، جگہ اور طریقے کے لحاظ سے پاکستان خود کرے گا۔ اس مقصد کے لیے افواجِ پاکستان کو مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

قومی یکجہتی اور امن کا عزم

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس کھلی جارحیت پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، مگر عزت، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی چیک کریں

Lahore: tution center roof collapsed, 14 students die

لاہور: ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنےسے14بچےجاں بحق

Tuesday, 30 June 2026 | Monitoring Desk لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی …