ویب ڈیسک ۔۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کل سے کراچی میں فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم (ایف سی اے) نافذ کرے گا، جس سے کسٹمز کے نظام اور کام کے کلچر میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کا آغاز
ڈان نیوز کے مطابق، یہ نیا نظام ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی منظوری وزیرِاعظم شہباز شریف پہلے ہی دے چکے ہیں۔ ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق، کراچی کے اپریزمنٹ کلکٹریٹس میں رات 12 بجے کے بعد جمع ہونے والی تمام امپورٹ گڈز ڈیکلریشنز کو سنٹرل اپریزنگ یونٹ کے سپرد کیا جائے گا، جو حال ہی میں ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل کراچی میں قائم کیا گیا ہے۔
نظام کے فوائد اور اثرات
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے نفاذ سے:
- کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں تیزی آئے گی۔
- اسسمنٹ میں شفافیت اور معیار میں بہتری ہوگی۔
- تجارت میں آسانی فراہم کی جائے گی۔
نظام کے تحت اپریزمنٹ کے کام کو کسٹمز کلکٹریٹس سے باہر منتقل کیا جائے گا، اور پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اسے ملک کے دیگر پورٹس اور سرحدی اسٹیشنز پر بھی نافذ کیا جائے گا۔
پاکستان کابزنس ویزاصرف 24گھنٹےمیں
مرکزی اپریزنگ یونٹ کی تشکیل
نئے نظام کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں:
- 55 افسران کو سنٹرل اپریزنگ یونٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔
- کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ محنت اور دیانتداری سے کام کرنے والے افسران کو اضافی فوائد دیے جا سکیں۔
کلیئرنگ ایجنٹس کے لیے نئے قواعد
ایف بی آر نے کلیئرنگ ایجنٹس کی اہلیت اور لائسنسنگ کے معیار میں بھی تبدیلیاں کی ہیں:
- پوائنٹ اسکورنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت درست ڈیکلریشنز جمع کرانے والے ایجنٹس کو زیادہ پوائنٹس ملیں گے۔
- ناقص کارکردگی دکھانے والے ایجنٹس کے پوائنٹس کم کیے جائیں گے اور ان کا لائسنس منسوخ بھی ہو سکتا ہے۔
اصلاحاتی اقدامات
ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے میں دیگر اصلاحاتی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں شامل ہیں:
- سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ مانیٹرنگ۔
- آٹو میٹڈ پروڈکشن مانیٹرنگ۔
- آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ڈیٹا انٹگریشن۔
- امپورٹ اسکیننگ۔
- افرادی قوت کی کارکردگی پر کڑی نظر۔
ایف بی آر کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے بزنس پراسسز کو جدید اور مؤثر بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔