Home / کرپٹوکرنسی سےمتعلق شبرزیدی کی بڑی وارننگ

کرپٹوکرنسی سےمتعلق شبرزیدی کی بڑی وارننگ

Shabar Zaidi warns about Crypto Currency

Monday, 15 September 2025 | Web Desk

  • سابق چیئرمین ایف بی آر شبّر زیدی کہتےہیں پاکستان موجودہ مالیاتی نظام میں کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ نہیں کرسکتا۔
  • کرپٹو کرنسی ہنڈی و حوالہ کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔
  • نو ملین پاکستانی بٹ کوائن سمیت ورچوئل کرنسیز رکھتے یا ٹریڈ کرتے ہیں۔
  • پاکستان میں زرمبادلہ پر سخت کنٹرول ہے، اس لیے کرپٹو کو ریگولیٹ کرنا مشکل ہے۔
  • دنیا میں کرپٹو کی حیثیت پر مختلف رجحانات: بھارت نے مسترد کیا، امریکہ میں مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
  • شبّر زیدی کے مطابق ٹرمپ فیملی نے کرپٹو سے 2.4 ارب ڈالر کمائے۔
  • کرپٹو کرنسی کا تصور رسائی اوردستاویز کے برعکس ہے، اسی لیے مشکل ہے کہ ریاستی نظام اس پر قابو پا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اورمعاشی ماہرِشبّر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ مالیاتی نظام کے تحت کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ اسٹیٹ بینک غیر ملکی زرمبادلہ پر سخت کنٹرول رکھتا ہے، تاہم ورچوئل اثاثے ہنڈی و حوالہ کےمتبادل کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔

وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز(PIIA)زیر اہتمام سیمینار "پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو کرنسی: امکانات اور خدشات” سے خطاب کر رہے تھے۔

شبّرزیدی نے کہاکرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے لیے قانون تو موجود ہے اور پارلیمنٹ میں زیر بحث بھی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورچوئل کرنسیاں اپنی ساخت کی وجہ سے قابو میں نہیں آتیں۔ ان کے بقول: ایسی کرنسی جو بغیر ریگولیشن کے وجود میں آئی ہو، اسے ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان ڈیجیٹل ادائیگیوں کےنئےدورمیں داخل

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے، بالخصوص امریکہ میں۔ لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ یہاں کمرشل بینک اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر ڈالر کی خرید و فروخت نہیں کرسکتے۔

شبّر زیدی کے مطابق اندازاً نو ملین پاکستانی بٹ کوائن سمیت مختلف ورچوئل کرنسیاں رکھتے یا ان میں لین دین کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں انڈر اِن وائسنگ کے ذریعے بھی کرپٹو استعمال ہورہا ہے، بالکل ہنڈی حوالہ نظام کی طرز پر۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں تمام کرنسیاں اعتماد پر کھڑی ہوتی ہیں، جیسا کہ ماضی میں برطانوی پاؤنڈ اور آج امریکی ڈالر۔ اسی طرح مستقبل میں کوئی ڈیجیٹل کرنسی بھی بطور عالمی ذریعۂ ادائیگی اُبھر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اثاثہ جات سے منسلک کرپٹو کرنسیاں جاری کی جاسکتی ہیں، لیکن ان کی مانگ کم ہی رہے گی کیونکہ لوگ غیر ریگولیٹڈ کرپٹو کے ذریعے کالا دھن سفید بناتے ہیں۔

شبرزیدی نے بھارت اور امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کرپٹو کرنسی کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے، جبکہ امریکہ میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ دورِ حکومت میں فیڈرل ریزرو کی مخالفت کے باوجود انتظامیہ نے کرپٹو کی حمایت کی اور ٹرمپ فیملی نے اس سے 2.4 ارب ڈالر کمائے۔

شبّر زیدی نے واضح کیا کہ پاکستان نے اگرچہ اپنے مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن میں پیشرفت کی ہے، لیکن کرپٹو کرنسی اس سے بالکل مختلف تصور ہے۔ ان کے الفاظ میں: ڈیجیٹلائزیشن ڈاکیومینٹیشن اور ٹریس ایبلٹی ہے، جبکہ کرپٹو اس کے برعکس گمنامی اور بے قابو رہنے پر مبنی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زرمبادلہ پر سخت پابندیوں کی وجہ سے ورچوئل کرنسیز کا استعمال آئندہ بھی بڑھنے کا امکان ہے، بالخصوص بیرون ملک ادائیگیوں کے لیے۔

یہ بھی چیک کریں

WhatsApp floating notification bubbles on Android phone screen for quick replies

واٹس ایپ میں اہم اپ ڈیٹ کی تیاریاں

Monday, 27 April 2026 | Web Desk واٹس ایپ اپنےصارفین کیلئےبظاہرمعمولی لیکن اصل میں بہت …