Home / لانگ مارچ : کیاعمران خان کامیاب ہوجائیں گے؟

لانگ مارچ : کیاعمران خان کامیاب ہوجائیں گے؟

Imran Khan Long March

محمدظہیر (تجزیہ) — اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی اپنی مقبولیت کےعروج پرہیں اورانہوں نےاتوارکو ہونے والے ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ نشستیں جیت کریہ ثابت بھی کردیا ہے لیکن اب ان کااگلالائحہ عمل کیاہوگا؟

اس ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہاربھی گئی – ایک کراچی اور دوسری ملتان سے۔ یہ ایک بڑا دھچکا ہے لیکن ساتھ ہی عمران خان کی پارٹی نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) سے صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں بھی چھین لیں۔

عمران خان نے اپنی مقبولیت تو ثابت کر دی لیکن کیا وہ حکومت کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبور کر پائیں گے؟ یہ سوال اہم ہے کیونکہ خان کواپنی مقبولیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر وہ حکومت پردباؤ ڈالنے میں ناکام رہے اور حکومت نے قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان ضمنی انتخابات میں اکثریتی نشستیں جیتنے کے باوجود قبل از وقت انتخابات نہیں کروا سکیں گے لیکن اگر وہ ملک بھر میں بدامنی اور سیاسی ہنگامہ برپا کرتے ہیں توانہیں اس کافائدہ ہوسکتاہے۔

دیگرسیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی جانب سےلانگ مارچ ایک بے سود کوشش ہوگی چاہے وہ اسلام آباد کا محاصرہ کر لیں اور ملک کو کچھ دنوں کے لیے تعطل کا شکار کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت میں اسٹیبلشمنٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے مداخلت کر سکتی ہےاوراس صورت میں فائدہ کسی کونہیں ہوگا۔

تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم رائے سازوں کا خیال ہے کہ شاید نئے مینڈیٹ کا وقت آگیا ہے لیکن کیا ایسا ہوگا؟ کیا حکومت اپنی سیاسی قبر کھودنے کے لیے عمران خان کے سامنے جھک جائے گی؟ جواب ہے: "یقیناً نہیں۔”تو پھر کیا ہوگا؟

سیاسی افراتفری اور انتشار سے بچنے کا واحد حل بات چیت ہے لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ وہ ’’ٹھگوں‘‘سے بات نہیں کریں گے۔ خان کا ضدی موقف ملک کو سیاسی بدامنی کے سوا کچھ نہیں دے گا۔ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اور سیاسی پولرائزیشن سے ملک مکمل انتشار کا شکار ہو رہا ہے۔

عمران خان جس بیانیے اور محاذ آرائی کا پرچار کرتے ہیں وہ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جو بالآخر ملک کو اس وجودی بحران سے نکال سکتےہیں۔

کوئی بھی سیاسی قوت نئے انتخابات سے انکار نہیں کر سکتی لیکن کسی معاہدےپرپہنچےبغیر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کم از کم عمران خان ایسے انتخابات کو قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا، ایک متفقہ فریم ورک کے بغیر، انتخابات متنازعہ رہیں گے اور ملک کو مزید انتشار کا شکار کر دیں گے۔

پرامن، آزادانہ اور غیر متنازعہ انتخابات کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو میز پر بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنا اور پورے ملک کو تعطل کا شکار کرنا ایک مہلک غلطی ہوگی۔ انتخابات میں جیت ہونے کا مطلب ہریہ نہیں کہ آپ کوملک کےدارلحکومت کوبندکرنےکالائسنس مل گیاہے۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

nepotism in pakistani showbiz indstry

پاکستانی شوبزانڈسٹری : عجب کرپشن کی گجب کہانیاں

یوں تومیرٹ نام کی چڑیاکب کی پاکستان سےپھرہوچکی لیکن جس طرح شوبزانڈسٹری کابیڑاغرق ہواہے،اس پرصرف …