Home / دنیاکیاسےکیاہوجائےگی ۔۔ ؟

دنیاکیاسےکیاہوجائےگی ۔۔ ؟

man with gagets

بہت زیادہ مشاہدےاورتجربےکےبعد کم از کم میں تواس نتیجےپرپہنچاہوں کہ انسان بے پناہ سائنسی ترقی کی بنیادپراپنی بقانہیں بلکہ فناکویقینی بنارہاہے۔یہی ٹیکنالوجی جس کےبغیرآج ہم اپنی زندگی کوادھوراسمجھتےہیں ایک دن اسی زندگی کاوبال بن جائےگی۔انسان انسان نہیں رہےگا،مشین بن جائےگا۔یہ سب کیسے ہوگا؟میرے تخیل میں اس حوالے سے ایک خاکہ ہےجو میں آپ دوستوں سے شئیر کرناچاہتاہوں لیکن اس سے پہلے ایک واقعہ سن لیں۔

چندماہ پہلےکی بات ہے،میں اپنے گھرکےقریب واقع ایک ریسٹورنٹ کےپاس سےگزراتو وہاں کھڑی ایک گاڑی کےاندرکےمنظر نےمجھے بہت کچھ سوچنےپرمجبورکردیا۔کارکےاندربیٹھی چارلڑکیاں انتہائی محویت کے عالم میں اپنے اپنے موبائل کی سکرین سےآنکھیں جوڑےایس ایم ایس کرنےیاپڑھنےکاانتہائی ضروری کام کررہی تھیں۔

بظاہراس سب میں کچھ خاص نہیں لیکن مجھےاس منظرنےایک ان دیکھےخوف اور اضطراب میں مبتلاکردیا۔۔اور میں یہ سوچنے لگاکہ موبائل اورکمپیوٹرسےہماری حدسےبڑھتی ہوئی قربت مستقبل میں ہمارے رویوں ، احساسات اور جذبات پرکیااثرات مرتب کرےگی؟

آپ نے سنا ہوگاکہ انسان اپنےقرابت داروں سے پہچاناجاتاہے۔اسی بنیادپرمجھےایسالگتاہےکہ آج سےپندرہ بیس سال بعدانسان اپنی تعلیمی قابلیت اورحسب نسب کی بجائےاپنے مشینی رویوں اورخصوصیات کی بناپرپہچاناجائےگا۔

اس دورمیں ماں باپ اپنے بچے کی خوبیاں بیان کرینگے توان کے منہ سے کچھ اس قسم کے جملے نکلیں گے۔

جناب ہمارےبیٹےکادماغ کواڈکورپروسیسرکی طرح تیزچلتاہے،ہینگ ہونےکاتوسوال ہی پیدانہیں ہوتا کیونکہ اس کی ریم بہت زیادہ ہے۔

اور ہارڈڈسک کاتو پوچھیں ہی مت۔۔جوچاہیں سٹورکرلیں،جگہ کم نہیں پڑنےوالی۔

جس شخص کے سامنے یہ خوبیاں بیان کی جارہی ہونگی اب اس کی بھی سن لیں وہ کیا کہےگا:

میری بیٹی بھی کسی سے کم نہیں،وائی فائی کے سگنل توفوراًپکڑلیتی ہے،ایک سم نہ  چلے تو دوسری سے کام چلالیتی ہے۔بیٹری ٹائمنگ کاتوپوچھیں ہی مت،لاجواب ہے۔

اس دورکےانسانوں کی ظاہری وضع قطع ان کے باطن کی طرح بڑی حد تک تبدیل ہوجائےگی۔کانوں پرہیڈفون یاہینڈزفری،منہ کےقریب ماوتھ پیس،ہاتھ میں موبائل،آنکھوں پر بلوٹوتھ سے لیس جدید چشمہ،کلائی پرموبائل سےکنیکٹڈ واچ اور جانے کیا کیا کچھ جو اس وقت تک آچکاہوگا۔۔مختصر لفظوں میں بات کو سمیٹوں تو یوں سمجھ لیں کہ گوشت پوست کا انسان آپکو دور سے دیکھنے پرپورےکاپوراآئرن مین دکھائی دےگا۔

میں وثوق سےتو نہیں کہہ سکتاکہ ایساہوگالیکن وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ،منافقت،خودغرضی،دھوکہ اورفریب جیسی خصلتیں ہمارے کرداراوررویوں پراثراندازہوسکتی ہیں توکیایہ مشینیں جوآج ہمارےبچےبچےکی زندگی کااٹوٹ انگ بن چکی ہیں، کیاآنے والےدورمیں ہمارے انگ انگ میں نہیں بس جائیں گی؟ 

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at [email protected]

یہ بھی چیک کریں

SC throws Hamza Shehbaz

دوسروالاانصاف ۔۔

بہت زیادہ غیرجانبدارہوکربھی سوچتاہوں توسمجھ نہیں آتاکہ وہ کون ساغصہ ،بغض یاعنادہےجوادارےمسلم لیگ ن اوراس …